المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1006
حَدَّثَنَا، الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالا: ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُباب ، قَالَ: أنا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ" ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَكْرِ بْنِ خَلَفٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ سَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَانَ عِنْدَنَا ثَابِتًا مِمَّنْ يَصْدُقُ وَيَحْفَظُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گواہ اور قسم پر فیصلہ فرما دیا۔ (کسی فیصلہ کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے اگر دو گواہ نہ ہوں، تو ایک گواہ اور مدعی کی قسم پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔) علی بن عبد الله کہتے ہیں: میں نے یحیی بن سعید سے سیف بن سلیمان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: وہ ہمارے نزدیک ثابت تھا، سچے اور حافظ لوگوں میں سے تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1712»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 1006 in Urdu
عمرو بن دينار الجمحي ← عبد الله بن العباس القرشي