المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
احکام اور فیصلوں کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 1005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا الْحَارِثُ بْنُ سَلْمَانَ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ: ثنا كُرْدُوسٌ ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ الْكِنْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلا مِنْ كِنْدَةَ، وَرَجُلا مِنْ حَضْرَمَوْتَ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْضٍ بِالْيَمَنِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُو هَذَا، فَقَالَ لِلْكِنْدِيِّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَقُولُ: إِنَّهَا أَرْضٌ فِي يَدِي وَرِثْتُهَا مِنْ أَبِي، فَقَالَ لِلْحَضْرَمِيِّ: هَلْ لَكَ مِنْ بَيِّنَةٍ؟ قَالَ: لا، وَلَكِنْ لِيَحْلِفْ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا يَعْلَمُ أَنَّهَا أَرْضِي اغْتَصَبَنِيهَا أَبُوهُ، فَتَهَيَّأَ الْكِنْدِيُّ لِلْيَمِينِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لا يَقْتَطِعُ رَجُلٌ مَالا بِيَمِينِهِ إِلا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ" ، فَرَدَّهَا الْكِنْدِيُّ.
سیدنا اشعث بن قیس کندی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ کندہ اور حضرموت سے ایک ایک آدمی اپنی یمن کی زمین کے متعلق مقدمہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرمی کہنے لگا: اللہ کے رسول! اس (کندی) کے والد نے میری زمین پر ناجائز قبضہ کر لیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کندی سے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: میں یہ کہتا ہوں کہ زمین میرے قبضے میں ہے اور مجھے اپنے باپ سے ورثہ میں ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کوئی دلیل ہے؟ اس نے کہا: اللہ کے رسول! دلیل تو نہیں ہے، لیکن یہ اس ذات کی قسم کھائے، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ نہیں جانتا یہ زمین میری ہے، اس کے والد نے مجھ سے زبردستی چھین لی تھی۔ کندی قسم کے لیے تیار ہوا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی (جھوٹی) قسم کے ذریعے کسی سے مال چھینتا ہے، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ملے گا، تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا ہو گا۔ تو کندی نے زمین اسے واپس کر دی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 2/215، سنن أبي داود: 3622، السنن الكبرى للبيهقي: 10/180، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (5088) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (4/295) نے صحیح الاسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
كردوس بن العباس التغلبي ← أشعث بن قيس الكندي