پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
لوگوں کو نماز پڑھاتے وقت اختصار (تخفیف) کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 330
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: ثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ الأَسْوَدُ ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" رَأَى رَجُلا يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " أَلا رَجُلٌ يَتَّجِرُ عَلَى هَذَا فَيُصَلِّي مَعَهُ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مسجد میں تنہا نماز پڑھتے دیکھا، تو فرمایا: کوئی ہے جو اس کے ساتھ تجارت کرے اور اس کے ساتھ مل کر نماز پڑھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الصلاة/حدیث: 330]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 3/45-64-85-5، سنن أبي داود: 574، سنن الترمذي: 220، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن، امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1632) امام ابن حبان رحمہ اللہ (2397) اور امام حاکم رحمہ اللہ (1/209) نے صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 2/142) نے اسے صحیح کہا ہے، حافظ ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ ثابت (الأوسط: 4/218) حافظ ہیشمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحيح (مجمع الزوائد: 2/45)، اس کا بسند حسن شاہد المعجم الأوسط للطبراني (7282) اور سنن الدارقطني (11/276) میں موجود ہے، حافظ زیلعی حنفی رحمہ اللہ (نصب الراية: 2/58) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (الدراية: 1/173) نے اس کی سند کو جید قرار دیا ہے، اس کا راوی محمد بن حسن بن زبیر اسدی کی جمہور محدثین نے توثیق کر رکھی ہے، لہذا یہ حسن الحدیث ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Al-Muntaqa Ibn al-Jarud Hadith 330 in Urdu
علي بن داود الناجي ← أبو سعيد الخدري