المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 682
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْءَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ فَاعْتُرِضَ عَنْهَا، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصِيبَهَا، فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا وَهُوَ زَوْجُهَا الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا قَبْلَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ عَنْ تَزْوِيجِهَا، فَقَالَ: " لا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ" .
سیدنا عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی تمیمہ بنت وہب کو طلاق دے دی۔ عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے نکاح کر لیا۔ عورت کی طرف سے عبدالرحمن بن زبیر رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کی گئی تو وہ اس سے جماع نہ کر سکے اور ہاتھ لگائے بغیر ہی اسے طلاق دے دی۔ تمیمہ کے پہلے خاوند رفاعہ نے دوبارہ ان سے نکاح کی خواہش ظاہر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفاعہ کو ان سے شادی کرنے سے روک دیا اور فرمایا: وہ اس وقت تک آپ کے لیے حلال نہیں جب تک وہ جماع کا ذائقہ نہ چکھ لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب النكاح/حدیث: 682]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: الجامع لابن وهب: 266، مسند الروياني: 1466، السنن الكبرى للبيهقي: 375/7، اس حدیث کے بارے میں حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ مُّسْنَدٌ (التمهيد: 221/13) امام مالک رحمہ اللہ (531) وغیرہ نے اسے ”مرسل“ بھی ذکر کیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
الزبير بن عبد الرحمن القرظي ← عبد الرحمن بن الزبير القرظي