الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ اور اس کا بیان جس کا آپ نے حکم دیا
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَخَلَّلَ أَصَابِعَهُ وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ حَتَّى غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ثَلاثًا" وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ، قِيلَ لإِسْحَاقَ: لَيْسَ فِيهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ: مَا كَانَ عِنْدِي أَعْطَيْتُكَ، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: ثَنَا إِسْرَائِيلُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، فَقَالَ فِيهِ: وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا.
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے دونوں ہاتھ تین تین مرتبہ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، سر اور کانوں کا آگے پیچھے سے مسح کیا، دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، انگلیوں اور ڈاڑھی کا خلال کیا، حتی کہ چہرہ بھی تین مرتبہ دھویا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، جس طرح آپ نے مجھے دیکھا۔ اسحاق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس میں بازو دھونے کا ذکر نہیں ہے، فرمایا: میرے پاس جو کچھ تھا میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ محمد بن یحیٰی رحمہ اللہ کی سند میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ نے دونوں بازو تین تین مرتبہ دھوئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطهارة/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 149/1، سنن أبى داؤد: 110، سنن الترمذي: 31، سنن ابن ماجه: 430، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“، امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 151 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1081 نے ”صحيح“ كہا ہے، امام حاكم رحمہ اللہ 148/1 - 149، فرماتے ہيں: وهذا إسناده صحيح- عامر بن شقيق كوفي جمہور محدثين كے نزديک ”حسن الحديث“ ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
الرواة الحديث:
مالك بن إسماعيل النهدي ← إسرائيل بن يونس السبيعي