المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
26. صفة وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم وصفة ما أمر به
رسول اللہ ﷺ کے وضو کا طریقہ اور اس کا بیان جس کا آپ نے حکم دیا
حدیث نمبر: 67
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ حُمْرَانَ بْنِ أَبَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ ثَلاثًا فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثًا ثُمَّ الْيُسْرَى مثل ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
حمران بن ابان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے تین مرتبہ ہاتھوں پر پانی ڈال کر دھویا، پھر تین مرتبہ کلی کی اور ناک (میں پانی ڈال کر) جھاڑا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر اسی طرح بایاں ہاتھ دھویا، سر کا مسح کیا، تین مرتبہ دایاں پاؤں ٹخنے تک دھویا، اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرح وضو کرنے کے بعد فرمایا: جس نے میری طرح وضو کیا، پھر دو رکعتیں (تحیۃ الوضو) اس طرح ادا کیں کہ اپنے خیالات میں مگن نہ ہوا، تو اس کے سابقہ سارے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 67]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 159-160-164، صحيح مسلم: 226»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 68
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ ، قَالَ: دَخَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّحَبَةَ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ، فَجَلَسَ فِي الرَّحَبَةِ ثُمَّ قَالَ لِغُلامٍ لَهُ: ائْتِنِي بِطَهُورٍ، فَجَاءَهُ الْغُلامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَطَسْتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ، " فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الإِنَاءَ فَأَكْفَأَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ الأَنَاءَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَلأَ فَمَهُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا مَرَّةً ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رِجْلِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى رِجْلِهِ الْيُسْرَى فَغَسَلَهَا ثَلاثَ مَرَّاتٍ بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الإِنَاءِ فَمَلأَهَا مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ شَرِبَ مِنْهُ" ثُمَّ قَالَ: هَذَا طَهُورُ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورِهِ .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نماز فجر ادا کرنے کے بعد رحبہ (کوفے کا ایک مقام) میں گئے، وہاں بیٹھ کر اپنے غلام سے پانی منگوایا، غلام پانی کا ایک برتن اور ایک طشت لے کر آیا، عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم بیٹھ کر دیکھ رہے تھے کہ آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، دوبارہ پھر آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر دونوں ہاتھوں کو دھویا، سہ بارہ پھر آپ نے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑ کر بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور دونوں ہاتھوں کو دھویا، چنانچہ آپ نے تین مرتبہ ہاتھ دھوئے، عبد خیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب تک آپ نے تین مرتبہ ہاتھ دھو نہ لیے ان کو برتن میں داخل نہ کیا، پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، منہ بھر کے کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ ناک صاف کیا، پھر تین مرتبہ چہرہ دھویا، پھر تین مرتبہ دایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر تین مرتبہ بایاں ہاتھ کہنی تک دھویا، پھر دایاں ہاتھ پانی والے برتن میں اچھی طرح ڈبو کر پانی سمیت باہر نکالا اور بائیں ہاتھ سے ملا کر دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا، پھر دائیں پاؤں پر پانی ڈال کر تین مرتبہ اسے بائیں ہاتھ سے دھویا، پھر داہنے ہاتھ سے بائیں پاؤں پر پانی ڈال کر اسے بائیں ہاتھ سے تین مرتبہ دھویا، پھر دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اسے پانی سے بھر کر پی لیا، پھر فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح وضو کیا کرتے تھے۔ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وضود یکھنا پسند کرتا ہو، تو وہ یہی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 68]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 135/1-154، سنن أبى داود: 112، سنن النسائي: 91، اس حديث كو امام ابن خزيمہ رحمہ اللہ 147 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1056 نے ”صحيح“ كہا ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
حدیث نمبر: 69
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: ثَنَا الثَّوْرِيُّ ، وَمَعْمَرٌ ، وَدَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً" .
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک مرتبہ (اعضا کو دھو کر) وضو کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 69]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 157»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح البخاري
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " تَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَرِجْلَيْهِ مَرَّتَيْنِ وَوَجْهَهُ ثَلاثًا" .
سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، تو ہاتھ اور پاؤں دو دو مرتبہ دھوئے، چہرہ تین مرتبہ دھویا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 70]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 185، صحيح مسلم: 235»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 71
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: رُبَّمَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ مَثْنَى مَثْنَى" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کئی بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو دو مرتبہ وضو کے اعضا دھوتے دیکھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 71]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مصنف ابن أبى شيبة: 11/1، سنن أبى داود: 136، سنن الترمذي: 43، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن غريب“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1094 نے ”صحيح“ كہا هے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " تَوَضَّأَ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا، وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا، وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا، وَغَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَخَلَّلَ أَصَابِعَهُ وَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ حَتَّى غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ثَلاثًا" وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا رَأَيْتُمُونِي فَعَلْتُ ، قِيلَ لإِسْحَاقَ: لَيْسَ فِيهِ وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، قَالَ: مَا كَانَ عِنْدِي أَعْطَيْتُكَ، وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو غَسَّانَ ، قَالَ: ثَنَا إِسْرَائِيلُ بِهَذَا الإِسْنَادِ، فَقَالَ فِيهِ: وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ ثَلاثًا.
شقیق بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا، انہوں نے دونوں ہاتھ تین تین مرتبہ دھوئے، کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، تین مرتبہ چہرہ دھویا، سر اور کانوں کا آگے پیچھے سے مسح کیا، دونوں پاؤں تین تین مرتبہ دھوئے، انگلیوں اور ڈاڑھی کا خلال کیا، حتی کہ چہرہ بھی تین مرتبہ دھویا اور فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے، جس طرح آپ نے مجھے دیکھا۔ اسحاق رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: اس میں بازو دھونے کا ذکر نہیں ہے، فرمایا: میرے پاس جو کچھ تھا میں نے آپ کو بتا دیا ہے۔ محمد بن یحیٰی رحمہ اللہ کی سند میں یہ الفاظ بھی ہیں: آپ نے دونوں بازو تین تین مرتبہ دھوئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 149/1، سنن أبى داؤد: 110، سنن الترمذي: 31، سنن ابن ماجه: 430، اس حديث كو امام ترمذي رحمہ اللہ نے ”حسن صحيح“، امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 151 اور امام ابن حبان رحمہ اللہ 1081 نے ”صحيح“ كہا ہے، امام حاكم رحمہ اللہ 148/1 - 149، فرماتے ہيں: وهذا إسناده صحيح- عامر بن شقيق كوفي جمہور محدثين كے نزديک ”حسن الحديث“ ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ الْمَازِنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " أَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِنَاءِ فَغَسَلَهُمَا وَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ثَلاثًا، وَأَنَّهُ أَخَذَ بِيَدَيْهِ مَاءً فَبَدَأَ بِمُقَدَّمِ رَأْسِهِ ثُمَّ ذَهَبَ بِيَدَيْهِ إِلَى مُؤَخَّرِ الرَّأْسِ ثُمَّ رَدَّهُمَا إِلَى مُقَدَّمِهِ" .
سیدنا عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن سے دونوں ہاتھوں پر پانی ڈال کر انہیں دھویا، تین مرتبہ کلی کی، تین مرتبہ ناک صاف کی، دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر سر کی اگلی جانب سے (مسح) شروع کیا، دونوں ہاتھوں کو پچھلی جانب لے گئے، پھر آگے واپس لے آئے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 185، صحيح مسلم: 235»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَيْسَرَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ بْنَ مَعْدِ يكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوُضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثَلاثًا ثَلاثًا ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ ظَاهِرِهِمَا وَبَاطِنِهِمَا" .
سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو کیا، پھر سر کا مسح کیا اور دونوں کانوں کا آگے پیچھے سے مسح کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 132/4، سنن أبى داود: 121، سنن ابن ماجه: 442»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: ثَنَا الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوُضُوءِ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلاثًا ثَلاثًا وَقَالَ:" مَنْ زَادَ فَقَدْ أَسَاءَ وَظَلَمَ وَاعْتَدَى وَظَلَمَ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور وضو کے متعلق پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین تین مرتبہ وضو کیا اور فرمایا: جس نے اس سے بڑھایا اس نے برا کیا اور ظلم و زیادتی کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «حسن: مسند الإمام أحمد: 180/2، سنن أبى داود: 135، سنن النسائي: 140، سنن ابن ماجه: 422، اس حديث كو امام ابن خزيمه رحمہ اللہ 174 نے ”صحيح“ كہا ہے. سفيان كي متابعت امام ابو عوانه رحمہ اللہ كي ہے.»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
حسن
حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، قَالا: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْعَلِ الْمَاءَ فِي أَنْفِهِ ثُمَّ لِيَنْتَثِرْ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی وضو کرے، تو ناک میں پانی ڈال کر جھاڑے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 162، صحيح مسلم: 237»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه