🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
ظہار (بیوی کو محرمات سے تشبیہ دینا) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي خُوَيْلَةُ بِنْتُ ثَعْلَبَةَ ، وَكَانَتْ عِنْدَ أَوْسِ بْنِ صَامِتٍ أَخِي عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ ذَاتَ يَوْمٍ فَكَلَّمَنِي بِشَيْءٍ وَهُوَ فِيهِ كَالضَّجَرِ، فَرَدَدْتُهُ فَغَضِبَ، فَقَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، ثُمَّ خَرَجَ فَجَلَسَ فِي نَادِي قَوْمِهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَرَادَنِي عَلَى نَفْسِي، فَامْتَنَعْتُ مِنْهُ، فَشَادَّنِي فَشَادَدْتُهُ، فَغَلَبَتْهُ بِمَا تَغْلِبُ بِهِ الْمَرْأَةُ الرَّجُلَ الضَّعِيفَ، فَقُلْتُ: كَلا وَالَّذِي نَفْسُ خُوَيْلَةَ بِيَدِهِ، لا تَصِلُ إِلَيْهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ فِيَّ وَفِيكَ حُكْمَهُ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْكُو مَا لَقِيتُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" زَوْجُكِ وَابْنُ عَمِّكِ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَأَحْسِنِي صُحْبَتَهُ"، قَالَتْ: فَمَا بَرِحْتُ حَتَّى نزل الْقُرْآنُ: قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا سورة المجادلة آية 1 حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْكَفَّارَةِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مُرِيهِ فَلْيُعْتِقْ رَقَبَةً، قُلْتُ: وَاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مِنْ رَقَبَةٍ يُعْتِقُهَا قَالَ: مُرِيهِ فَلْيَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ مَا بِهِ مِنْ صِيَامٍ، قَالَ: فَلْيُطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا عِنْدَهُ مَا يُطْعِمُ، قَالَ: سَنُعِينُهُ بِعَرَقٍ مِنْ تَمْرٍ، وَالْعَرَقُ مَكْتَلٌ يَسَعُ ثَلاثِينَ صَاعًا، قُلْتُ: وَأَنَا أُعِينُهُ بِعَرَقٍ آخَرَ، قَالَ: قَدْ أَحْسَنْتِ فَلْيَتَصَدَّقْ بِهِ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک دن وہ (اوس بن صامت) میرے پاس آئے اور مجھ سے غصے میں کوئی بات کی، میں نے بھی جواب دے دیا، تو وہ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی مانند ہے۔ پھر نکلے اور اپنی قوم کی محفل میں جا بیٹھے۔ پھر (گھر) واپس آئے اور مجھ سے جماع کرنا چاہا تو میں نہ مانی۔ انہوں نے مجھے کھینچا، تو میں نے بھی سختی کی اور ان پر غالب آگئی، جیسا کہ عورت کمزور خاوند پر غالب آجاتی ہے۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں خویلہ کی جان ہے، آپ مجھ سے اس وقت تک نہیں مل سکتے، جب تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ نہ کر دے۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت لے کر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرا خاوند بھی ہے اور چچا زاد بھائی بھی ہے، اللہ سے ڈریں اور ان سے حسن سلوک سے رہیں۔ میں اپنی بات پر قائم رہی حتی کہ قرآن نازل ہو گیا: ﴿قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا﴾ (المجادلة: 1) (اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی، جو آپ سے اپنے خاوند کے متعلق جھگڑا کر رہی تھی) حتی کہ کفارہ پر آیت ختم ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں کہیں کہ وہ غلام آزاد کریں۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ کی قسم! ان کے پاس کوئی غلام نہیں ہے، جسے وہ آزاد کریں۔ فرمایا: انہیں کہیں کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھیں۔ عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ بہت بوڑھے ہیں، ان میں روزہ رکھنے کی سکت نہیں۔ فرمایا: تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔ میں نے کہا: اللہ کے نبی! ان کے پاس کھلانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ فرمایا: کھجوروں کا ایک ٹوکرا ہم اسے بطور تعاون دیں گے۔ (راوی کہتے ہیں:) عرق بڑے ٹوکرے کو کہتے ہیں، جس میں تیس صاع کھجور آتی ہے۔ میں (خویلہ بنت ثعلبہ) نے کہا: ایک ٹوکرا میں دے دوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے اچھا کیا، بس وہ اسے صدقہ کر دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 746]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 410/6، سنن أبي داود: 2214، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4279) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 433/9) نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے، علامہ ابن ترکمانی حنفی رحمہ اللہ (الجوهر النقي: 391/7) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے۔ معمر بن عبداللہ بن حنظلہ صدوق، حسن الحدیث ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥خولة بنت ثعلبة الأنصاريةصحابي
👤←👥يوسف بن عبد الله الإسرائيلي، أبو يعقوب
Newيوسف بن عبد الله الإسرائيلي ← خولة بنت ثعلبة الأنصارية
صحابي صغير
👤←👥معمر بن عبد الله الحجازي
Newمعمر بن عبد الله الحجازي ← يوسف بن عبد الله الإسرائيلي
مقبول
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← معمر بن عبد الله الحجازي
صدوق مدلس
👤←👥محمد بن سلمة الباهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن سلمة الباهلي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥عبد العزيز بن يحيى البكائي، أبو الأصبغ
Newعبد العزيز بن يحيى البكائي ← محمد بن سلمة الباهلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يحيى الذهلي ← عبد العزيز بن يحيى البكائي
ثقة حافظ جليل