المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
عدت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِالْقَدُومِ، فَوَثَبُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ شَاسِعٍ عَنْ أَهْلِهَا وَأَنَّهَا تُرِيدُ التَّحَوُّلَ إِلَيْهِمْ فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجُرَاتِ، أَوْ قَالَتْ: جَاوَزْتُ الْحُجُرَاتِ دَعَانِي، أَوْ قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ فَدَعَانِي، فَقَالَ لِي: " اعْتَدِّي فِي بَيْتِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کا خاوند اپنے (حبشی) غلاموں کی تلاش میں نکلا تو انہیں قدوم نامی جگہ میں پا لیا، انہوں نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنا واقعہ بیان کیا، نیز بتایا کہ میں ایسے گھر میں رہتی ہوں، جو میرے گھر والوں سے دور ہے، لہذا میں اپنے میکے لوٹ جانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ فریعہ کہتی ہیں: جب میں حجروں کے پاس پہنچی یا ان سے آگے نکلی، تو آپ نے مجھے آواز دی یا بلا وا بھیجا اور فرمایا: اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت پوری کریں، جہاں آپ کو ان کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ فریعہ کہتی ہیں: سیدنا عثمان رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں مجھ سے (اس بارے میں) پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، تو میں نے ان کو بتا دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 591/2، مسند الإمام أحمد: 370/6، سنن أبي داود: 2300، سنن الترمذي: 1204، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4292، 4293) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (208/2) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ (3562) اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (2031) نے بھی روایت کیا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
زينب بنت كعب الأنصارية ← الفارعة بنت مالك الخدرية