المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
عدت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفٌ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں غیر موجودگی میں بتہ طلاق دے دی اور اپنے وکیل کے ہمراہ کچھ جو بھیجے، تو وہ (یہ تھوڑے سے جو دیکھ کر) اس سے ناراض ہوئیں، اس نے کہا: الله کی قسم! ہمارے ذمہ آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور سارا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی نفقہ نہیں۔ اسے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: وہ (ام شریک) ایسی خاتون ہیں کہ اس کے پاس میرے صحابہ بکثرت آتے جاتے ہیں، لہذا آپ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار لیں، کیوں کہ وہ نابینا آدمی ہیں اگر آپ کسی وقت (فوری) کپڑے اتار بھی دیں، تو کوئی حرج نہیں اور جب عدت پوری کر لو، تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ بیان کرتی ہیں: جب عدت مکمل ہو گئی تو میں نے آپ کو اطلاع دی کہ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم بن ہذیم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم تو مارتا بہت ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس کوئی مال نہیں، لہذا آپ اسامہ بن زید سے نکاح کر لیں۔ فاطمہ نے کہا: مجھے وہ پسند نہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اسامہ بن زید سے شادی کر لیں۔ میں نے ان سے نکاح کر لیا، الله تعالیٰ نے اس میں اتنی خیر و برکت کی کہ میں ان پر رشک کرنے لگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1480»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← فاطمة بنت قيس الفهرية