المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
عدت کے احکام کا بیان
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثني حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، فَقَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاسِهَا أَوْ فِي أَحْلاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، أَفَلا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، (عدت میں) اس کی آنکھیں درد کرنے لگیں تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کرتے ہوئے سرمہ ڈالنے کا ذکر کیا، نیز کہنے لگے: ہمیں اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت (دور جاہلیت میں) سال بھر اپنے گھر میں گندے کپڑوں میں رہا کرتی تھی، یا یوں فرمایا: گندے کپڑوں میں اور گندے گھر میں رہا کرتی تھی، جب کوئی کتا گزرتا، تو وہ مینگنی پھینکتی (تب عدت پوری ہوتی) اور اب چار ماہ دس دن بھی نہیں گزار سکتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5338، صحيح مسلم: 1488»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
زينب بنت أم سلمة المخزومية ← أم سلمة زوج النبي