المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
باب
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ جَارِيَةٌ، فَأَصَابَ مِنْهَا ابْنًا، فَكَانَ يَسْتَخْدِمُهَا، فَلَمَّا شَبَّ الْغُلامُ دُعِيَ بِهَا يَوْمًا، فَقَالَ: اصْنَعِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ الْغُلامُ: لا تَأْتِيكَ حَتَّى مَتَى تَسْتَأْمَرُ أُمِّي؟ قَالَ: فَغَضِبَ أَبُوهُ فَحَذَفَهُ بِسَيْفِهِ فَأَصَابَ رِجْلَهُ أَوْ غَيْرَهَا فَقَطَعَهَا فَنَزَفَ الْغُلامُ فَمَاتَ، فَانْطَلَقَ فِي رَهْطٍ مِنْ قَوْمِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَنْتَ الَّذِي قَتَلْتَ ابْنَكَ؟ لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا يُقَادُ الأَبُ بِابْنِهِ" لَقَتَلْتُكَ، هَلُمَّ دِيَتَهُ، قَالَ: فَأَتَاهُ بِعِشْرِينَ أَوْ ثَلاثِينَ وَمِائَةِ بَعِيرٍ، قَالَ: فَتَخَيَّرَ مِنْهَا مِائَةً فَدَفَعَهَا إِلَى وَرَثَتِهِ وَتَرَكَ أَبَاهُ" .
سیدنا عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما بیان کرتے ہیں کہ بنو مدلج کے ایک آدمی کے پاس ایک لونڈی تھی، جس سے اس کا ایک لڑکا تھا، وہ آدمی اس لونڈی سے خدمت کروایا کرتا تھا، جب لڑکا جوان ہو گیا تو اس آدمی نے ایک دن لونڈی کو بلا کر کہا کہ فلاں فلاں کام کر دو، لڑکا کہنے لگا: وہ آپ کے پاس نہیں آئیں گی، کب تک آپ میری ماں پر حکم چلاتے رہیں گے؟ اس کے باپ نے غصے میں آکر اس کی طرف تلوار پھینکی جو اس کی ٹانگ یا اس کے علاوہ کسی جگہ پر لگی اور اس کو کاٹ دیا، لڑکے کا خون بہہ نکلا اور وہ مر گیا، وہ شخص اپنی قوم کے ایک گروہ کے ساتھ سیدنا عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اے اپنی جان کے دشمن! تو نے خود ہی اپنے بیٹے کو قتل کر دیا ہے، اگر میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ بیٹے کے بدلے باپ کو قتل نہ کیا جائے تو میں تجھے قتل کر دیتا، اس کی دیت ادا کرو۔ راوی کہتے ہیں: وہ آدمی ایک سو بیس یا تیس اونٹ لے کر آپ کے پاس آیا تو آپ نے ان میں سے سو اونٹ پسند کر لیے اور باپ کے علاوہ باقی ورثاء میں تقسیم کر دیے۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن الدارقطني: 140/3، 141، السنن الكبرى للبيهقي: 38/8، محمد بن عجلان مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمرو السهمي ← عمر بن الخطاب العدوي