المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدود (شرعی سزاؤں) کا بیان
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي"، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا لابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میں چودہ برس کا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کے لیے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت نہیں دی، پھر غزوہ خندق کے دن میں پندرہ برس کا تھا، میں آپ کے سامنے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران میں ان کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بچے اور جوان کے درمیان حد ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے عمال (گورنروں) کو لکھ بھیجا کہ پندرہ سال کے بچے کا وظیفہ لگا دو اور جو اس سے چھوٹا ہے، اسے گھر والوں کے ساتھ ہی رہنے دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 2664، صحیح مسلم: 1868»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي