المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
شکار کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: ثنا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: ثنا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَأَرْمِي بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي غَيْرِ مُعَلَّمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ كَمَا ذَكَرْتَ، فَلا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلا أَنْ لا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَإِنْ كُنْتُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ كَمَا ذَكَرْتَ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ" .
سیدنا ابو ثعلبہ خشني رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، تو ان کے برتنوں میں کھا پی لیتے ہیں اور ہمارا علاقہ شکار والا ہے، تو میں کمان کے ساتھ تیر بھی پھینکتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے بھی شکار کرتا ہوں۔ (تو اس میں سے کیا جائز ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہو، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے، تو ان کے برتنوں میں مت کھائیں الا یہ کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر کوئی اور چارہ نہ ہو، تو انہیں دھو کر ان میں کھا لیں اور اگر آپ شکار والے علاقے میں رہتے ہیں، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے، تو جو شکار آپ اپنے تیر سے کریں، اس پر اللہ کا نام لے کر کھا لیں اور جو شکار آپ سدھائے ہوئے کتے سے کریں، اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیں اور جو شکار آپ غیر سدھائے ہوئے کتے سے کریں اور پھر اسے ذبح کرنے کا موقع مل جائے، تو اسے بھی کھا لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5478، صحيح مسلم: 1930۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
أبو إدريس الخولاني ← أبو ثعلبة الخشني