🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب ما جاء في الصيد
شکار کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 914
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا: ثنا زَكَرِيَّا ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ابْنُ يَحْيَى وَهَذَا حَدِيثُ أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: " مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَهُوَ وَقِيذٌ" قَالَ: وَسَأَلْتُهُ عَنْ صَيْدِ الْكَلْبِ؟ فَقَالَ:" مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ، فَإِنْ أَخَذَ الْكَلْبُ ذَكَاتَهُ، وَإِنْ وَجَدْتَ مَعَ كَلْبِكَ كَلْبًا أَوْ كِلابًا غَيْرَهُ فَخَشِيتَ أَنْ يَكُونَ قَدْ أَخَذَهُ مَعَهُ وَقَدْ قَتَلَهُ فَلا تَأْكُلْ، فَإِنَّمَا ذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَى كَلْبِكَ وَلَمْ تَذْكُرْهُ عَلَى غَيْرِهِ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض سے شکار کرنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ تیز دھار کی طرف سے لگے، تو کھا لیں اور اگر عرض (چوڑائی) کی طرف سے لگے، تو وہ وقيذ (چوٹ سے مری ہوئی) ہے۔ کہتے ہیں: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ساتھ شکار کرنے کے متعلق پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شکار وہ آپ کے لیے روک لے اسے کھا لیں، کیوں کہ کتے کے پکڑنے سے وہ ذبح ہو جاتا ہے، اگر آپ کے کتے کے ساتھ اور کتے بھی موجود ہوں اور یہ اندیشہ ہو کہ اس کے ساتھ ان کتوں نے بھی شکار کو پکڑا ہے اور قتل کیا ہے، تو پھر اسے نہ کھائیں، کیوں کہ آپ نے اپنے کتے کو چھوڑتے وقت اللہ کا نام لیا ہے، باقیوں پر تو نہیں لیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5475، صحيح مسلم: 1929۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 915
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: ثني بَيَانٌ أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ:، قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُرْسِلُ الْكِلابَ الْمُعَلَّمَةَ فَتَقْتُلَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَتَلْنَ فَكُلْ إِلا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُشْرَكَهَا كَلْبٌ غَيْرُهَا" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم سدھائے ہوئے کتے چھوڑتے ہیں، جو (شکار کو) قتل کر دیتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ شکار کو مار ڈالیں، تو کھا لیں، لیکن اگر وہ اسے کھانے لگ جائیں یا کوئی اور کتا ان کے ساتھ شریک ہو جائے تو پھر مت کھائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5483، صحيح مسلم: 1929۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ: ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ: ثنا رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: ثنا أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ فَنَأْكُلُ فِي آنِيَتِهِمْ، وَإِنَّا بِأَرْضِ صَيْدٍ فَأَرْمِي بِقَوْسِي، وَأَصِيدُ بِكَلْبِي الْمُعَلَّمِ وَبِكَلْبِي الَّذِي غَيْرِ مُعَلَّمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتُمْ بِأَرْضِ أَهْلِ كِتَابٍ كَمَا ذَكَرْتَ، فَلا تَأْكُلُوا فِي آنِيَتِهِمْ إِلا أَنْ لا تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مِنْهَا بُدًّا فَاغْسِلُوهَا ثُمَّ كُلُوا فِيهَا، وَإِنْ كُنْتُمْ بِأَرْضِ صَيْدٍ كَمَا ذَكَرْتَ فَمَا صِدْتَ بِقَوْسِكَ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الْمُعَلَّمِ فَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ وَكُلْ، وَمَا صِدْتَ بِكَلْبِكَ الَّذِي غَيْرِ مُعَلَّمٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ" .
سیدنا ابو ثعلبہ خشني رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں، تو ان کے برتنوں میں کھا پی لیتے ہیں اور ہمارا علاقہ شکار والا ہے، تو میں کمان کے ساتھ تیر بھی پھینکتا ہوں اور اپنے سدھائے ہوئے اور غیر سدھائے ہوئے کتے سے بھی شکار کرتا ہوں۔ (تو اس میں سے کیا جائز ہے؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہو، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے، تو ان کے برتنوں میں مت کھائیں الا یہ کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو، اگر کوئی اور چارہ نہ ہو، تو انہیں دھو کر ان میں کھا لیں اور اگر آپ شکار والے علاقے میں رہتے ہیں، جیسا کہ آپ نے ذکر کیا ہے، تو جو شکار آپ اپنے تیر سے کریں، اس پر اللہ کا نام لے کر کھا لیں اور جو شکار آپ سدھائے ہوئے کتے سے کریں، اس پر اللہ کا نام لے کر اسے کھا لیں اور جو شکار آپ غیر سدھائے ہوئے کتے سے کریں اور پھر اسے ذبح کرنے کا موقع مل جائے، تو اسے بھی کھا لیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5478، صحيح مسلم: 1930۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 917
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلانِيَّ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ قِصَّةَ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" وَمَا لَمْ تُدْرِكْ ذَكَاتَهُ فَلا تَأْكُلْ" فِي قِصَّةِ الْكَلْبِ غَيْرِ الْمُعَلَّمِ.
سیدنا ابو ثعلبہ خشني رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے صرف کتے والا قصہ بیان کیا، نیز غیر سدھائے ہوئے کتے کے واقعے کے آخر میں فرماتے ہیں: جسے ذبح کا موقع نہ ملے اسے نہ کھائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 917]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5488، صحيح مسلم: 1930۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 918
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيُّ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمِعْرَاضِ؟ فَقَالَ: " إِذَا خَزَقَ فَكُلْ، وَإِنْ أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلا تَأْكُلْ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض (بغیر پھل کے تیر) کے متعلق سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ چھید کر دے، تو کھائیں اور اگر وہ عرض (چوڑائی) کی طرف سے لگے (چھید نہ کرے)، تو مت کھائیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 918]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5483، صحيح مسلم: 1929۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 919
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثني عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: قَالَ عَدِيُّ بْنُ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْمِي الصَّيْدَ فَأَطْلُبُ أَثَرَهُ بَعْدَ لَيْلَةٍ فَأَجِدُ فِيهِ سَهْمِي؟ قَالَ: " إِنْ وَجَدْتَهُ وَفِيهِ سَهْمُكَ، وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ سَبْعٌ فَكُلْ" ، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لأَبِي بِشْرٍ، فَقَالَ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيٍّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا وَجَدْتَ فِيهِ سَهْمَكَ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ أَمْرٍ غَيْرِهِ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ.
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، پھر ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں، اس میں میرا تیر موجود ہوتا ہے (تو کیا کروں) فرمایا: اگر آپ کو شکار مل جائے اور اس میں آپ کا تیر بھی موجود ہو اور کسی درندے نے بھی اس سے نہ کھایا ہو، تو آپ کھا سکتے ہیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو بشر کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے مجھے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اس میں اپنا تیر پائیں اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ پائیں، نیز آپ کو یقین ہو کہ یہ اسی تیر سے ہی مرا ہے، تو کھا سکتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 919]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/377، مسند الطيالسي: 1041، سنن النسائي: 4307، سنن الترمذي: 1468، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 920
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا ابْنُ الطَّبَّاعِ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا وَقَعَتْ رَمِيَّتُكَ فِي مَاءٍ فَغَرِقَ فَلا تَأْكُلْ" .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اگر آپ کا شکار (جسے تیر لگا ہے) پانی میں گر کر ڈوب جائے، تو اسے نہ کھائیں۔ (ہوسکتا ہے وہ پانی میں ڈوبنے کی وجہ سے مرا ہو۔) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 920]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5484، صحيح مسلم: 1929۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 921
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَرْمِي الصَّيْدَ، فَأَطْلُبُ الأَثَرَ بَعْدَ لَيْلَةٍ؟ فَقَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ السَّبُعُ فَكُلْ" ، قَالَ شُعْبَةُ: فَذَكَرْتُ لأَبِي بِشْرٍ، فَحَدَّثَنِي، عَنُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَ وَجَدْتَ سَهْمَكَ فِيهِ وَلَمْ تَرَ فِيهِ أَثَرَ أَمْرٍ غَيْرِهِ تَعْلَمُ أَنَّهُ قَتَلَهُ فَكُلْ".
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر تیر چلاتا ہوں، پھر ایک رات کے بعد اسے پاتا ہوں (تو کیا کروں) فرمایا: اگر آپ کو اس (شکار) میں اپنا تیر مل جائے اور کسی درندے نے بھی اس میں سے نہ کھایا ہو، تو اسے کھا سکتے ہو۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو بشر کے سامنے یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر آپ اس میں اپنا تیر پائیں اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ پائیں، نیز یقین ہو کہ یہ اسی تیر سے ہی مرا ہے، تو آپ کھا سکتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 921]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: مسند الإمام أحمد: 4/377، مسند الطيالسي: 1041، سنن النسائي: 4307، سنن الترمذي: 1468، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں