الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
نذروں (منتوں) کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 941
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، وَلَمْ يُنْسِبْهُ ابْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، فَقَالَ لَهُ: أَوْفِ بِنَذْرِكَ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ مسجد حرام میں ایک رات کا اعتکاف کروں گا، تو آپ نے انہیں فرمایا: اپنی نذر پوری کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 941]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 6697، صحيح مسلم: 1656۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي