🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. ما جاء في الحث على الصدقة وأمرها
یہ باب صدقہ کی ترغیب اور اس کے حکم کے بیان میں ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9896 ترقیم الشثری: -- 10065
١٠٠٦٥ - حدثنا ابو اسامة عن شعبة قال: حدثني عون بن ابي جحيفة قال: سمعت المنذر بن جرير يذكر عن ابيه قال: كنا عند رسول الله ﷺ صدر النهار (فجاء) (١) قوم حفاة (مجتابي) (٢) (النمار) (٣) عليهم السيوف ⦗١٣٨⦘ (والعمائم) (٤) عامتهم من مضر بل كلهم من مضر قال: فرايت وجه رسول الله ﷺ يتغير تغيرا لما راى بهم من الفاقة، قال: ثم قام فدخل (٥) ثم امر بلالا (فاذن) (٦) ثم (اقام) (٧) فصلى ثم قال: ﴿ياايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة﴾، ثم قرا إلى آخر الآية: ﴿واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام﴾ [النساء: ١] ، ﴿اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد﴾ [الحشر: ١٨] : تصدق امرؤ من ديناره (٨) من درهمه (٩) من ثوبه (١٠) من صاع بره (يعني الحنطة) (١١) من صاع تمره (حتى قال: اتقوا النار ولو) (١٢) بشق تمرة) "، قال: فجاء (رجل) (١٣) من الانصار بصرة قد كادت كفه تعجز عنها بل قد عجزت قال: ثم تتابع الناس حتى رايت كومين من طعام وثياب قال: فرايت وجه رسول الله ﷺ يتهلل كانه مذهبة فقال:"من سن في الإسلام سنة [حسنة او صالحة فاسق بها بعده كان له (اجرها) (١٤) واجر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (١٥) من اجورهم شيئا، ومن (سن) (١٦) (في ⦗١٣٩⦘ الإسلام) (١٧) سنة] (١٨) سيئة (فاستن بها بعده) (١٩) كان عليه (وزرها) (٢٠) ووزر من عمل بها بعده لا (ينتقص) (٢١) من اوزارهم شيئا" (٢٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ص]: (فجاءه).
(٢) في [هـ]: (محتابي).
(٣) في [ص]: (النهار).
(٤) في [أ، ب]: (فالعمائم) وفي [ح، ز، ك]: (أو العمائم).
(٥) في [هـ] زيادة: (المسجد).
(٦) في [أ، ب، جـ، ز]: (وأذن).
(٧) في [أ، ب]: (قام).
(٨) في [هـ] زيادة: (و).
(٩) في [هـ]: زيادة (و).
(١٠) في [هـ]: زيادة (و).
(١١) في [هـ] زيادة: (و).
(١٢) في [ك، ح، أ، ب]: (قال ولو حتى بشق تمرة) وفي [ص، ز]: (وحتى قال ولو بشق تمرة).
(١٣) في [أ، ب]: (رجلًا).
(١٤) في [ك، ح]: (أجره).
(١٥) في [ص]: (ينقص).
(١٦) في [ك، ح]: (استن).
(١٧) سقط من: [ص].
(١٨) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(١٩) سقط من: [ص].
(٢٠) في [ح، ك]: (وزره).
(٢١) في [ص]: (ينقص).
(٢٢) صحيح، أخرجه مسلم (١٠١٧) وأحمد (١٩١٧٤).

حدثنا ابو اسامة ، عن شعبة ، قال: حدثني عون بن ابي جحيفة ، قال: سمعت المنذر بن جرير ، يذكر عن ابيه ، قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم صدر النهار قال: فجاء قوم حفاة مجتابي النمار، عليهم السيوف والعمائم، عامتهم من مضر، بل كلهم من مضر، قال: فرايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتغير تغيرا لما راى بهم من الفاقة، قال: ثم قام فدخل، ثم امر بلالا فاذن، ثم اقام فصلى ثم قال:" يايها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة سورة النساء آية 1 ثم قرا إلى آخر الآية: واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام سورة النساء آية 1 , اتقوا الله ولتنظر نفس ما قدمت لغد سورة الحشر آية 18 تصدق امرؤ من ديناره , من درهمه , من ثوبه , من صاع بره, يعني الحنطة، ومن صاع تمره" حتى قال:" ولو بشق تمرة" قال: فجاء رجل من الانصار بصرة قد كادت كفه تعجز عنها، بل قد عجزت، قال: ثم تتابع الناس حتى رايت كومين من طعام وثياب، قال: فرايت وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم يتهلل كانه مذهبة، فقال:" من سن في الإسلام سنة حسنة او صالحة فاستن بها بعده كان له اجرها واجر من عمل بها بعده، لا ينتقص من اجورهم شيئا، ومن سن في الإسلام سنة سيئة فاستن بها بعده كان عليه وزرها ووزر من عمل بها بعده، لا ينتقص من اوزارهم شيئا"
حضرت جریر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں صبح کے وقت حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم حاضر ہوئی جو تنگ دست تھے سفید اور کالے لباس میں ملبوس تھے، ان پر تلواریں تھیں اور عمامے تھے، اکثر کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا بلکہ میں تو کہوں گا سب کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا، ان کی تنگ دستی کی حالت کو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ متغیر ہونا شروع ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھے اور مسجد میں داخل ہوئے اور حضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا، اس کے بعد لوگوں کو نماز پڑھائی، اور پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے لوگو! ڈرو اس رب سے جس نے تم کو ایک نفس سے پیدا کیا پھر آیت کے آخر تک تلاوت فرمائی، اور اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَد۔ کی تلاوت فرمائی۔ (اور حکم دیا کہ) لوگو! صدقہ کرو دینار میں سے، درھم میں سے، کپڑوں میں سے، گندم میں سے اور کھجور میں سے یہاں تک کہ اگرچہ وہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی کیوں نہ ہو۔ اتنے میں ایک انصاری شخص تھیلی اٹھا کر آیا اور اس کی ہتھیلی اس کے اٹھانے سے عاجز آرہی تھی بلکہ میں تو کہوں گا کہ اس کے ہاتھ عاجز آگئے تھے، پھر باقی لوگوں نے بھی اس کی پیروی کی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کپڑے اور کھانے پینے کی اشیاء کے دو ڈھیر لگ لئے۔ راوی کہتے ہیں کہ اسکو دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ انور سونے کی طرح چمکنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اسلام میں کوئی اچھا اور نیک طریقہ جاری کرے گا، اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اسکو اپنے اجر کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا اجر بھی ملے گا اور ان کے اجر میں بھی کمی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے اور بعد میں لوگ اس پر عمل کریں تو اس پر اپنے گناہ کے علاوہ ان لوگوں کا گناہ بھی ہوگا جو بعد میں اس پر عمل کریں گے ان لوگوں کے گناہوں میں کمی کئے بغیر،، [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10065]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10065، ترقيم محمد عوامة 9896)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 10065 in Urdu