🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
147. من رخص في زيارة القبور
قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11930 ترقیم الشثری: -- 12167
١٢١٦٧ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن (ابيه) (١) قال: لما فتح رسول الله ﷺ مكة اتى (جذم) (٢) قبر فجلس إليه فجعل كهيئة المخاطب (وجلس) (٣) الناس [حوله فقام وهو يبكي فتلقاه عمر وكان من اجرا الناس عليه، فقال: بابي انت وامي يا رسول الله ما الذي ابكاك؟ قال:"هذا قبر امي، سالت] (٤) ربي الزيارة فاذن لي، وسالته الاستغفار فلم ياذن لي، فذكرتها (فرقت) (٥) نفسي فبكيت". قال: فلم ير يوما كان اكثر باكيا منه يومئذ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (ابنه).
(٢) في [هـ، أ، ب]: (حرم)، وجذم الشيء: أصله.
(٣) في [ص]: (واجلس).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من [ص].
(٥) في [هـ]: (فذرفت).
(٦) صحيح، أخرجه الحاكم ١/ ٣٧٥، والنسفي في القند ص ١٢٤، وابن سعد ١/ ١١٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٨٩، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٥٢)، والفاكهي (٢٣٧٧)، وابن شبة في أخبار المدينة (٣٥٤) وأصله عند مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٣٠٠٣).

حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي ، عن سفيان ، عن علقمة بن مرثد ، عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، قال: لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة اتى جذم قبر فجلس إليه، فجعل كهيئة المخاطب , وجلس الناس حوله، فقام وهو يبكي , فتلقاه عمر , وكان من اجرإ الناس عليه , فقال: بابي انت وامي يا رسول الله , ما الذي ابكاك؟ قال: " هذا قبر امي , سالت ربي الزيارة فاذن لي , وسالته الاستغفار فلم ياذن لي، فذكرتها , فرقت نفسي , فبكيت" , قال: فلم ير يوما كان اكثر باكيا منه يومئذ.
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پرانی قبر پر تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، آپ مخاطب کی طرح ہوگئے، اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمر ملے اور حضرت عمر لوگوں میں سے آپ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والے تھے، حضرت عمر نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میری والدہ ماجدہ کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، اور میں نے استغفار کی اجازت مانگی تو وہ مجھے نہیں ملی، میں نے ان کو یاد کیا تو میرے دل کو ترس آیا اور میں رو پڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روئے تھے اس سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12167، ترقيم محمد عوامة 11930)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12167 in Urdu