🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

147. من رخص في زيارة القبور
قبروں کی زیارت کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11926 ترقیم الشثری: -- 12163
١٢١٦٣ - حدثنا محمد بن فضيل عن ابي] (١) (سنان) (٢) عن محارب بن (دثار) (٣) عن (ابن) (٤) بريدة عن ابيه قال: قال رسول الله ﷺ:"كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين القوسين من [ص].
(٢) في [س]: (سبان).
(٣) في [أ]: (رواد).
(٤) في [ص]: (أبي).
(٥) صحيح، أخرجه مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٢٩٥٨).

حدثنا محمد بن فضيل ، عن ابي سنان ، عن محارب بن دثار ، عن ابن بريدة ، عن ابيه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" كنت نهيتكم عن زيارة القبور , فزوروها"
حضرت ابو بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے پہلے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس اب تم زیارت کیا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12163]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12163، ترقيم محمد عوامة 11926)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11927 ترقیم الشثری: -- 12164
١٢١٦٤ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن الحارث عن عمرو بن عامر عن انس بن مالك قال: نهى رسول الله ﷺ عن زيارة القبور ثم قال:"زوروها ولا تقولوا هجرا" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ لضعف يحيى بن الحارث، أخرجه أحمد (١٣٤٨٧)، وأبو يعلى (٣٧٠٧)، والحاكم ١/ ٣٧٦، والبيهقي ٤/ ٧٧، والبزار (١٢١١/ كشف).
حدثنا عبد الرحيم بن سليمان ، عن يحيى بن الحارث ، عن عمرو بن عامر ، عن انس بن مالك ، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن زيارة القبور، ثم قال: زوروها , ولا تقولوا هجرا"
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیارت قبور سے منع فرمایا، پھر (بعد میں) فرمایا قبروں کی زیارت کرلیا کرو اور بیہودہ کلام مت کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12164]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12164، ترقيم محمد عوامة 11927)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11928 ترقیم الشثری: -- 12165
١٢١٦٥ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة (عن) (١) علي بن (زيد) (٢) عن ربيعة بن (النابغة) (٣) عن ابيه عن علي قال: نهى رسول الله ﷺ عن زيارة القبور ثم قال:"إني (كنت) (٤) نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها تذكركم الآخرة" (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [ص]: (يزيد).
(٣) في [هـ، ص]: (النافعة).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) مجهول؛ لجهاله النابغة، أخرجه أحمد (١٢٣٦)، وأبو يعلى (٢٧٨)، وابن عدي ٣/ ١٥١٩، والطحاوي ٤/ ١٨٥.

حدثنا يزيد بن هارون ، عن حماد بن سلمة ، عن علي بن زيد ، عن ربيعة بن النابغة ، عن ابيه ، عن علي ، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن زيارة القبور ثم قال:" إني كنت نهيتكم عن زيارة القبور , فزوروها , تذكركم الآخرة".
حضرت علی رضی اللہ عنہ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبروں کی زیارت سے منع فرمایا تھا، پھر (بعد میں) ارشاد فرمایا: بیشک میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، اب تم ان کی زیارت کرلیا کرو، اس سے آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12165]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12165، ترقيم محمد عوامة 11928)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11929 ترقیم الشثری: -- 12166
١٢١٦٦ - حدثنا محمد بن عبيد [ (قال) (١) : حدثنا] (٢) يزيد بن كيسان (عن ابي حازم) (٣) عن ابي هريرة قال: زار رسول الله ﷺ قبر امه فبكى وابكى من (كان) (٤) حوله فقال:"استاذنت ربي (في) (٥) (ان) (٦) استغفر لها فلم ياذن لي واستاذنته في ⦗١٣٧⦘ ان ازور قبرها فاذن لي، فزوروا القبور فإنها تذكركم (الموت) (٧) " (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ز]: (نا).
(٣) سقط من: [ص].
(٤) سقط من: [ز، ص].
(٥) سقط من: [هـ، أ، ب].
(٦) سقط من: [ص].
(٧) في [هـ]: زيادة (الأخرة).
(٨) حسن؛ يزيد بن كيسان صدوق، أخرجه مسلم (٩٧٦) وأحمد (٩٦٨٨).

حدثنا محمد بن عبيد ، قال: حدثنا يزيد بن كيسان ، عن ابي حازم ، عن ابي هريرة ، قال: زار رسول الله صلى الله عليه وسلم قبر امه , فبكى , وابكى من كان حوله , فقال:" استاذنت ربي ان استغفر لها فلم ياذن لي، واستاذنته في ان ازور قبرها , فاذن لي، فزوروا القبور , فإنها تذكركم الموت"
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی اور آپ رو پڑے اور آپ کے اردگرد جو حضرات تھے وہ بھی رونے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے اپنے رب سے اجازت چاہی کہ ان کے لئے مغفرت کی دعا کروں، تو مجھے اجازت نہیں ملی، اور میں نے اپنے رب سے قبروں کی زیارت کرنے کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، تم لوگ قبروں کی زیارت کیا کرو اس سے تمہیں موت یاد آئے گی۔ (موت کی یاد تازہ ہوگی)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12166]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12166، ترقيم محمد عوامة 11929)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11930 ترقیم الشثری: -- 12167
١٢١٦٧ - حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن سليمان بن بريدة عن (ابيه) (١) قال: لما فتح رسول الله ﷺ مكة اتى (جذم) (٢) قبر فجلس إليه فجعل كهيئة المخاطب (وجلس) (٣) الناس [حوله فقام وهو يبكي فتلقاه عمر وكان من اجرا الناس عليه، فقال: بابي انت وامي يا رسول الله ما الذي ابكاك؟ قال:"هذا قبر امي، سالت] (٤) ربي الزيارة فاذن لي، وسالته الاستغفار فلم ياذن لي، فذكرتها (فرقت) (٥) نفسي فبكيت". قال: فلم ير يوما كان اكثر باكيا منه يومئذ (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (ابنه).
(٢) في [هـ، أ، ب]: (حرم)، وجذم الشيء: أصله.
(٣) في [ص]: (واجلس).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من [ص].
(٥) في [هـ]: (فذرفت).
(٦) صحيح، أخرجه الحاكم ١/ ٣٧٥، والنسفي في القند ص ١٢٤، وابن سعد ١/ ١١٧، والبيهقي في دلائل النبوة ١/ ١٨٩، وابن شاهين في ناسخ الحديث (٦٥٢)، والفاكهي (٢٣٧٧)، وابن شبة في أخبار المدينة (٣٥٤) وأصله عند مسلم (٩٧٧) وأحمد (٢٣٠٠٣).

حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي ، عن سفيان ، عن علقمة بن مرثد ، عن سليمان بن بريدة ، عن ابيه ، قال: لما فتح رسول الله صلى الله عليه وسلم مكة اتى جذم قبر فجلس إليه، فجعل كهيئة المخاطب , وجلس الناس حوله، فقام وهو يبكي , فتلقاه عمر , وكان من اجرإ الناس عليه , فقال: بابي انت وامي يا رسول الله , ما الذي ابكاك؟ قال: " هذا قبر امي , سالت ربي الزيارة فاذن لي , وسالته الاستغفار فلم ياذن لي، فذكرتها , فرقت نفسي , فبكيت" , قال: فلم ير يوما كان اكثر باكيا منه يومئذ.
حضرت سلیمان بن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک پرانی قبر پر تشریف لائے اور اس کے پاس بیٹھ گئے، آپ مخاطب کی طرح ہوگئے، اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھ گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت عمر ملے اور حضرت عمر لوگوں میں سے آپ پر سب سے زیادہ جرأت کرنے والے تھے، حضرت عمر نے فرمایا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ میری والدہ ماجدہ کی قبر ہے، میں نے اپنے رب سے اس کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت مل گئی، اور میں نے استغفار کی اجازت مانگی تو وہ مجھے نہیں ملی، میں نے ان کو یاد کیا تو میرے دل کو ترس آیا اور میں رو پڑا۔ راوی کہتے ہیں کہ جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روئے تھے اس سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12167]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12167، ترقيم محمد عوامة 11930)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11931 ترقیم الشثری: -- 12168
١٢١٦٨ - حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن زيد حدثنا فرقد (السبخي) (١) (حدثنا) (٢) جابر بن (زيد) (٣) (حدثنا) (٤) (٥) مسروق عن عبد الله قال: قال ⦗١٣٨⦘ رسول الله ﷺ:"إني نهيتكم عن زيارة القبور فإنه قد اذن لمحمد في زيارة قبر امه فزوروها تذكركم (الآخرة) (٦) " (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: [هـ] (السنجي).
(٢) في [ز]: (نا).
(٣) في [هـ]: (يزيد).
(٤) في [ز]: (نا).
(٥) في [ز]: زيادة (مروان).
(٦) سقط من: [أ، ز]، وكذلك من [ب].
(٧) ضعيف؛ لضعف فرقد السبخي، أخرجه أحمد (٤٣١٩)، وابن ماجة (١٥٧١)، وابن حبان (٩٨١)، والطحاوي ٤/ ١٨٥، وأبو يعلى (٥٢٩٩)، والشاشي (٣٩٧)، والبيهقي ٤/ ٧٧.

حدثنا يزيد بن هارون ، عن حماد بن زيد ، حدثنا فرقد السبخي ، حدثنا جابر بن زيد ، حدثنا مسروق ، عن عبد الله ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إني نهيتكم عن زيارة القبور , فإنه قد اذن لمحمد في زيارة قبر امه , فزوروها , تذكركم الآخرة"
حضرت عبد اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیشک میں نے (پہلے) تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، بیشک مجھے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی اجازت دے دی گئی، تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو یہ تمہیں موت اور آخرت یاد دلائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12168]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12168، ترقيم محمد عوامة 11931)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11932 ترقیم الشثری: -- 12169
١٢١٦٩ - [حدثنا عيسى بن يونس عن اسامة بن زيد عن نافع قال: توفي عاصم ابن عمر وابن عمر غائب فلما قدم قال: دلوني على قبره، فوقف عليه ساعة يدعو] (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط الخبر من: [ص].
(٢) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق.

حدثنا حدثنا عيسى بن يونس، عن اسامة بن زيد، عن نافع، قال: توفي عاصم بن عمر، وابن عمر غائب، فلما قدم، قال: دلوني على قبره , فوقف عليه ساعة يدعو.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عاصم بن عمر کا انتقال ہوا تو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما موجود نہ تھے، جب وہ تشریف لائے تو فرمایا: مجھے ان کی قبر بتلاؤ، پھر اس کے پاس کچھ دیر کھڑے رہے اور دعا فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12169]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12169، ترقيم محمد عوامة 11932)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11933 ترقیم الشثری: -- 12170
١٢١٧٠ - حدثنا عيسى بن يونس (١) عن ابن (جريج) (٢) عن عبد الله بن ابي مليكة قال: توفي عبد الرحمن بن ابي بكر بالحبشي -قال ابن جريج: الحبشي (على) (٣) إثني عشر ميلا من مكة-، فدفن بمكة، فلما قدمت عائشة اتت قبره فقالت (٤) : (و) (٥) كنا كندماني (جذيمة) (٦) حقبة … من الدهر حتى قيل (لن) (٧) يتصدعا فلما تفرقنا كاني ومالكا … لطول اجتماع لم نبت ليلة معا ⦗١٣٩⦘ ثم قالت: اما والله لو حضرتك لدفنتك حيث (مت) (٨) ، ولو شهدتك ما زرتك (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، هـ]: زيادة (عن أسامة).
(٢) في [ص]: (جريح).
(٣) في [أ، ب، ص]: زيادة (على).
(٤) في [ص]: زيادة (شعر).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [هـ]: (جزيمة).
(٧) في [ص]: (أن).
(٨) في [ص]: (من).
(٩) منقطع حكمًا؛ ابن جريج مدلس.

حدثنا حدثنا عيسى بن يونس، عن ابن جريج، عن عبد الله بن ابي مليكة، قال: توفي عبد الرحمن بن ابي بكر بالحبشي , قال ابن جريج الحبشي على اثني عشر ميلا من مكة، فدفن بمكة، فلما قدمت عائشة اتت قبره فقالت: " وكنا كندماني جذيمة حقبة من الدهر حتى قيل لن يتصدعا فلما تفرقنا كاني ومالكا لطول اجتماع لم نبت ليلة معا، ثم قالت: اما والله لو حضرتك لدفنتك حيث مت، ولو شهدتك ما زرتك".
حضرت عبد اللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن ابی بکر کا حبشی مقام پر انتقال ہوا، حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ جبشی مکہ سے بارہ میل کے فاصلہ پر ایک مقام ہے۔ ان کو مکہ میں دفن کیا گیا جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آئیں تو ان کی قبر پر تشریف لائیں اور یہ اشعار پڑھے۔ ہم لمبے زمانے سے مضبوط جدا نہ ہونے والے ساتھی تھے یہاں تک کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہم کبھی جدا ہوں گے ہی نہیں۔ لیکن جب جدا ہوئے تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میں نے اور مالک نے اس لمبے اجتماع کے باوجود بھی ایک رات بھی اکٹھے نہ گزاری ہو۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں اس وقت حاضر ہوتی تو جہاں انتقال ہوا تھا وہیں دفن کرواتی اور اگر میں اس کے جنازے میں حاضر ہوتی تو اس کی قبر کی زیارت نہ کرتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12170]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12170، ترقيم محمد عوامة 11933)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11934 ترقیم الشثری: -- 12171
١٢١٧١ - حدثنا (حفص) (١) بن غياث عن (عبيد الله) (٢) بن عمر عن نافع عن ابن عمر انه كان إذا قدم وقد مات بعض ولده (قال) (٣) : دلوني على قبره، (فيدلونه) (٤) عليه، فينطلق فيقوم عليه ويدعو له (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (جعفر).
(٢) في [ص]: (عبد اللَّه).
(٣) في [هـ، أ، ب]: (فقال).
(٤) في [أ، ب]: (فيدلوه).
(٥) صحيح.

حدثنا حدثنا حفص بن غياث، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر ، انه كان إذا قدم , وقد مات بعض ولده , فقال:" دلوني على قبره، فيدلونه عليه , فينطلق , فيقوم عليه , ويدعو له".
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12171، ترقيم محمد عوامة 11934)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 11935 ترقیم الشثری: -- 12172
١٢١٧٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (ابي) (١) فروة الهمداني عن الغيرة بن سبيع عن (ابن) (٢) بريدة عن ابيه قال: جالست النبي ﷺ في المجلس فرايته حزينا فقال له رجل من القوم: ما لك يا رسول الله كانك حزين؟ قال:"ذكرت امي"، ثم قال رسول الله ﷺ:"كنت نهيتكم عن لحوم الاضاحي ان تاكلوها إلا ثلاثة فكلوا واطعموا وادخروا ما بدا لكم، ونهيتكم عن زيارة القبور فمن اراد ان يزور قبر امه فليزره، وكنت نهيتكم عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير فاجتنبوا كل مسكر (وانبذوا) (٣) فيما بدا لكم" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، ز، هـ]: (أبي).
(٣) في [ص]: (وانتبذوا).
(٤) حسن؛ المغيرة بن سبيع صدوق، ومثله عبيدة، أخرجه مسلم (٩٧٧)، وأحمد (٢٢٩٥٨).

حدثنا عبيدة بن حميد ، عن ابي فروة الهمداني ، عن المغيرة بن سبيع ، عن ابن بريدة ، عن ابيه ، قال: جالست النبي صلى الله عليه وسلم في المجلس فرايته حزينا فقال: له رجل من القوم: ما لك يا رسول الله , كانك حزين؟ قال:" ذكرت امي، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم كنت نهيتكم عن لحوم الاضاحي ان تاكلوها إلا ثلاثة ايام، فكلوا , واطعموا , وادخروا ما بدا لكم، ونهيتكم عن زيارة القبور , فمن اراد ان يزور قبر امه فليزره، وكنت نهيتكم عن الدباء والحنتم والمزفت والنقير , فاجتنبوا كل مسكر , وانبذوا فيما بدا لكم".
حضرت ابن بریدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بار مجلس میں تشریف فرما تھے اور انتہائی غمگین تھے، لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! کیا وجہ ہے آپ غمگین دکھائی دے رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں اپنی والدہ کو یاد کر رہا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، پس (اب) تم خود کھاؤ اور دوسروں کو کھلاؤ اور جتنا چاہو ذخیرہ کرو، اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا، پس جو اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کرنا چاہتا ہے وہ زیارت کرے، اور میں نے تمہیں کدو کے برتن سے، سبز رنگ کے برتن سے، سبز رنگ کے روغن سے رنگے ہوئے برتن سے اور پیالہ نما گڑھا کی ہوئی لکڑی جس میں کھجور کی شراب بنائی جاتی ہے اس برتن سے منع کیا تھا، پس تم ہر نشہ والی چیز سے اجتناب کرو اور باقی جتنی چاہو پیؤ، (جس میں نشہ نہ ہو)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12172]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12172، ترقيم محمد عوامة 11935)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں