مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
198. من رخص في البكاء على الميت
بعض حضرات نے میت پر رونے کی اجازت دی ہے
ترقیم عوامۃ: 12251 ترقیم الشثری: -- 12500
١٢٥٠٠ - حدثنا علي بن هاشم عن ابن ابي ليلى عن عطاء عن جابر قال: اخذ النبي ﷺ بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل فاتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه (فوضع) (١) في حجره، فقال:"يا بني لا املك لك من الله شيئا"، وذرفت (عينه) (٢) فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول الله او لم تنه عن البكاء؟ قال:"إنما نهيت عن النوح عن صوتين (احمقين) (٣) فاجرين صوت عند (نغمة) (٤) (لهو ولعب) (٥) (و) (٦) مزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ⦗٢٥٨⦘ ورنة شيطان، إنما هذه رحمة ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا انه امر حق ووعد صدق وسبيل ماتيه، وإن (اخرانا) (٧) (سيلحق) (٨) اولانا، لحزنا (٩) عليك حزنا اشد من هذا، وانا بك لمحزونون، تبكي العين و (يحزن) (١٠) القلب ولا نقول ما يسخط الرب" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (فوضعه).
(٢) في [ب]: (عينيه).
(٣) في [ص]: (أجمعين).
(٤) في [أ]: (لقمة).
(٥) في [ص]: (لعب ولهو).
(٦) سقطت الواو من [ب].
(٧) في [ص]: (لم خرانا).
(٨) في [ص]: (سنلحق)، وفي [ب]: (لستلحق)، وفي [أ]: (ستلحق)، وفي [هـ]: (لنلحق).
(٩) في [ص]: زيادة (و).
(١٠) في [ص]: (عوف).
(١١) ضعيف؛ لحال ابن أبي ليلى، أخرجه الترمذي (١٠٠٥)، وعبد بن حميد (١٠٠٤)، والطيالسي (١٦٨٤)، والبيهقي ٤/ ٦٩، والبغوي (١٥٣٠)، وبنحوه الحاكم ٤/ ٤٠، والطحاوي ٤/ ٢٩٣.
حدثنا علي بن هاشم ، عن ابن ابي ليلى ، عن عطاء ، عن جابر ، قال: اخذ النبي صلى الله عليه وسلم بيد عبد الرحمن بن عوف فخرج به إلى النخل، فاتي بإبراهيم وهو يجود بنفسه , فوضع في حجره , فقال:" يا بني، لا املك لك من الله شيئا , وذرفت عينه"، فقال له عبد الرحمن: تبكي يا رسول الله او لم تنه عن البكاء؟ قال:" إنما نهيت عن النوح، عن صوتين احمقين فاجرين: صوت عند نعمة لهو ولعب ومزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه وشق جيوب ورنة شيطان، إنما هذه رحمة , ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم لولا انه امر حق ووعد صدق وسبيل ماتية، وإن آخرنا سيلحق اولانا لحزنا عليك حزنا اشد من هذا، وإنا بك لمحزونون , تبكي العين , ويحزن القلب , ولا نقول ما يسخط الرب"
حضرت جابر سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور کھجور کے درختوں کی طرف گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کو لایا گیا وہ اس وقت قریب المرگ تھے، ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گود میں رکھا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بیٹے! میں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آگئے، حضرت عبد الرحمن نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رونے سے منع نہیں کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے، دو فاجر اور احمق آوازوں سے: نغمہ کے وقت لھو ولعب کی آواز اور شیطان کی بانسری (کی آواز) اور مصیبت کی وقت کی آواز: چہروں کو نوچنا، گریبان چاک کرنا اور شیطان کی طرح زور سے چیخنا، بیشک یہ تو رحمت کے آنسو ہیں، اور جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اے ابراہیم اگر یہ امر حق نہ ہوتا، وعدہ سچا نہ ہوتا اور راستہ اور جہت انجانی نہ ہوتی اور ہمارے آخر والے عنقریب ہمارے پہلوں سے ملنے والے نہ ہوتے تو ہمارا غم تیرے بارے میں اس سے زیادہ ہوتا، اور ہم تیری وجہ سے البتہ غمگین ہیں آنیں ور روتی ہیں اور دل غمگین اور مغموم ہے اور ہم ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ہمارا رب ناراض ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12500]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12500، ترقيم محمد عوامة 12251)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 12500 in Urdu