مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
152. ما حق الزوج على امرأته
عورت پر خاوند کا کیا حق ہے؟
ترقیم عوامۃ: 17407 ترقیم الشثری: -- 18006
١٨٠٠٦ - حدثنا جعفر بن عون قال: اخبرنا ربيعة بن عثمان عن محمد بن يحيى ابن حبان عن نهار العبدي وكان من اصحاب ابي سعيد الخدري عن ابي سعيد ان رجلا اتى بابنة له إلى النبي ﷺ فقال: (إن) (١) ابنتي قد ابت ان تتزوج قال: (فقال) (٢) لها:"اطيعي اباك"، (قال) (٣) : (فقالت) (٤) : لا (٥) حتى تخبرني ما حق الزوج على ⦗٤٦٦⦘ زوجته؟ فرددت عليه مقالتها، قال: فقال:"حق (الزوج) (٦) على زوجته: ان لو (كان) (٧) به (قرحة) (٨) فلحستها او ابتدر (منخراه) (٩) (صديدا او دما) (١٠) (١١) ثم لحسته ما ادت حقه"، قال: فقالت: والذي بعثك بالحق لا اتزوج ابدا قال: فقال:"لا تنكحوهن إلا بإذنهن" (١٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ]: (قال).
(٣) في [أ، ب]: سقط (قال).
(٤) في [أ، ب، س، ط، ك]: (قالت).
(٥) في [أ، ب]: زيادة (قالت).
(٦) في [ك]: (للزوج).
(٧) في [ك]: (كانت).
(٨) في [س]: (قرحته).
(٩) في [أ، ب]: (منخره).
(١٠) في [ز]: (صديد ودم)، وفي [ك]: (صديد ودم)، وفي [أ، ب]: (صديدًا أو دم).
(١١) في [ك]: زيادة (فلحستها).
(١٢) حسن؛ نهار العبدي وربيعة بن عثمان صدوقان، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٣٨٦)، وابن حبان (٤١٦٤)، والحاكم ٢/ ١٨٨، والدارقطني ٣/ ٢٣٧، والبيهقي ٧/ ٢٩١، وابن حزم في المحلى ١٠/ ٣٣٤.
حدثنا جعفر بن عون ، قال: اخبرنا ربيعة ، عن عثمان بن ابي سليمان ، عن محمد بن يحيى بن حبان ، عن نهار العبدي ، وكان من اصحاب ابي سعيد الخدري، عن ابي سعيد ، ان رجلا اتى بابنة له إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إن ابنتي هذه ابت ان تتزوج، قال، فقال لها:" اطيعي اباك" قال , فقالت: لا حتى تخبرني ما حق الزوج على زوجته؟ فرددت عليه مقالتها، قال: فقال: " حق الزوج على زوجته، ان لو كان به قرحة فلحستها او ابتدر منخراه صديدا او دما ثم لحسته ما ادت حقه" قال: فقالت: والذي بعثك بالحق لا اتزوج ابدا، قال: فقال:" لا تنكحوهن إلا بإذنهن"
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک آدمی اپنی بیٹی کو لے کر حضور 5 کے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ میری یہ بیٹی شادی کرنے سے انکار کررہی ہے۔ حضور 5 نے اس بچی سے فرمایا کہ اپنے باپ کی بات مان لو۔ اس لڑکی نے کہا کہ میں اس وقت تک شادی نہیں کروں گی جب تک آپ مجھے یہ نہ بتادیں کہ بیوی پر خاوند کا کیا حق ہے؟ حضور 5 نے فرمایا کہ بیوی پر خاوند کا حق یہ ہے کہ اگر خاوند کو پھوڑا نکل آئے اور اس کی بیوی اس پھوڑے کو چاٹے یا اس سے پیپ اور خون نکلے اس کی بیوی اس کو چاٹے تو پھر بھی اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اس پر اس لڑکی نے کہا کہ پھر تو اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں کبھی شادی نہیں کروں گی۔ پھر حضور 5 نے اس کے باپ سے فرمایا کہ عورتوں کا نکاح ان کی اجازت کے بغیر نہ کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18006]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18006، ترقيم محمد عوامة 17407)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 18006 in Urdu