مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
54. ما دعا (به) النبي ﷺ لأمته فأعطي بعضه
جو دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لیے مانگی جس کا کچھ حصہ عطا بھی کر دیا گیا
ترقیم عوامۃ: 30122 ترقیم الشثری: -- 31483
٣١٤٨٣ - حدثنا ابو اسامة حدثنا سليمان بن المغيرة حدثنا ثابت عن عبد الرحمن ابن ابي ليلى عن صهيب قال: كان رسول الله ﷺ إذا صلى (همس) (١) شيئا لا يخبرنا به، (قلنا) (٢) : يا رسول الله إنك مما إذا صليت (همست) (٣) شيئا لا نفقهه، قال:"فطنتم (بي؟) (٤) " قلت: نعم، قال:"ذكرت نبيا من الانبياء اعطي جنودا من (قومه) (٥) (فنظر إليهم) (٦) فقال: من يكافئ هؤلاء قال: فقيل له: اختر لقومك إحدى ثلاث إما ان يسلط (عليهم) (٧) عدوا من غيرهم او الجوع او الموت، قال: فعرض ذلك على قومه، قال: فقالوا: انت نبي الله فاختر لنا، قال: فقام إلى ⦗٢٤٣⦘ الصلاة، قال: وكانوا مما إذا (فزعوا) (٨) فزعوا إلى الصلاة، فصلى (فقال) (٩) : اللهم (إما) (١٠) إن تسلط عليهم من غيرهم فلا، او الجوع فلا، ولكن الموت، قال: فسلط عليهم الموت فمات منهم سبعون الفا في ثلاثة ايام، قال: (فهمسي) (١١) (الذي) (١٢) تسمعون (اني) (١٣) اقول اللهم بك احاول وبك اصاول (١٤) ولا قوة إلا بك" (١٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ط]: (فيمش).
(٢) في [أ، ب، جـ، ط، ك]: (فقلن).
(٣) في [أ، ب، ط]: (فتمشيث)، وفي [جـ]: (فتمشت).
(٤) في [ط، هـ]: (بي).
(٥) في [ط]: (قدم).
(٦) سقط من: [ط، هـ].
(٧) زيادة في [ك]: (عليهم)، وسقط من: [هـ].
(٨) سقطت من: [ط، ك].
(٩) في [جـ، ك]: (ثم قال).
(١٠) سقط من: [أ، ط، هـ].
(١١) في [أ، ب، ط]: (فهمسني).
(١٢) في [أ، ب، ط]: (الذين).
(١٣) في [أ، جـ، ط، ك]: (إلى)، وفي [ب]: (إلا).
(١٤) في [هـ]: زيادة (لا حول و).
(١٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٩٣٧)، والنسائي في الكبرى (٨٦٣٣)، والترمذي (٣٣٤٠)، وابن حبان (٤٧٨٥)، والدارمي (٢٤٤١)، والشاشي (٩٩٢)، والقضاعي (١٤٨٣)، والبيهقي ٩/ ١٥٣، والطبراني في الدعاء (٦٦٤)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ١٥٥، وابن السني (١١٧)، وعبد الرزاق (٩٧٥١)، والبزار (٢٠٨٩).
حضرت صھیب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز پڑھتے تو آہستہ سے کچھ کہتے جس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نہیں بتلایا تھا۔ پس ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! بلاشبہ ابھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھی ہے تو آہستہ سے کچھ کہا جس کو ہم نہیں سمجھ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے، کیا تم نے میرے پڑھنے کو جان لیا؟ ہم نے کہا! جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے انبیاء میں سے ایک نبی کا قصہ یاد آگیا۔ جن کی قوم کے لشکر کو ان کا تابع بنادیا گیا تھا، پس انہوں نے اس لشکر کی طرف دیکھ کر فرمایا: کون ہے جو اس سے بدلہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس ان سے کہا گیا: آپ اپنی قوم کے لیے تین میں سے ایک بات منتخب کریں: یا تو ان پر کسی غیر دشمن کو مسلط کردیا جائے، یا پھر بھوک و فاقہ یا پھر موت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہوں نے اپنی قوم پر یہ تینوں چیزیں پیش کیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی قوم نے کہا: آپ اللہ کے نبی ہیں آپ ہی ہمارے لیے کوئی ایک منتخب فرما لیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس وہ نماز کے لیے کھڑے ہوگئے۔ یہ بھی فرمایا: جب وہ لوگ کسی چیز سے ڈرتے تو وہ نماز کی پناہ پکڑتے تھے۔ پس ان نبی نے نماز پڑھی، پھر یوں فرمایا: اے اللہ! یا تو آپ نے ان پر دشمن کو مسلط فرمانا تھا پس آپ ایسا مت کریں یا پھر بھوک تو وہ بھی نہیں، لیکن موت عطا کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی قوم پر موت کو مسلط کردیا گیا۔ پس ان کی قوم کے تین دنوں میں ستر ہزار افراد موت کی وادی میں سو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پس میں آہستہ سے جو پڑھ رہا تھا جو تم نے سنا میں یہ دعا پڑھ رہا تھا۔ اے اللہ! میں آپ کی مدد سے سے ہی تدبیر کروں گا، اور آپ کی مدد سے ہی حملہ کروں گا، اور ایسا کرنے کی طاقت نہیں سوائے تیری مدد کے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الدعاء/حدیث: 31483]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31483، ترقيم محمد عوامة 30122)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 31483 in Urdu