مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
94. فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟
ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
ترقیم عوامۃ: 33780 ترقیم الشثری: -- 35320
٣٥٣٢٠ - (١) حدثنا شبابة بن سوار قال: ثنا سليمان بن الغيرة عن حميد بن هلال قال: جاء ابو العالية إلي وإلى صاحب لي فقال: هلما، فإنكما اشب مني واوعى للحديث مني، قال: (فانطلقنا) (٢) حتى اتينا بشر بن عاصم الليثي فقال ابو العالية: حدث هذين حديثك، قال: حدثني عقبة بن مالك الليثي قال: بعث النبي ﷺ سرية فاغارت على القوم، فشذ رجل من القوم (واتبعه) (٣) رجل من السرية (و) (٤) معه سيف (شاهره) (٥) ، فقال (الشاذ) (٦) من القوم: إني مسلم، فلم ينظر فيما قال، (قال) (٧) : فضربه فقتله، فنمى الحديث إلى النبي ﷺ فقال النبي ﷺ قولا شديدا، فبلغ القاتل، فبينما النبي ﷺ يخطب إذ قال القاتل: والله يا نبي الله ما قال الذي قال إلا تعوذا من القتل، فاعرض عنه النبي ﷺ و (عمن يليه) (٨) من الناس، فعل ذلك مرتين كل ذلك يعرض عنه النبي ﷺ، فلم يصبر ان قال الثالثة مثل ذلك، فاقبل عليه النبي ﷺ بوجهه (تعرف) (٩) المساءة في (وجهه) (١٠) فقال:"إن الله ابى علي فيمن قتل مؤمنا"، ⦗٣٧٢⦘ ثلاث مرات يقول ذلك (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: زيادة (قال).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (فانطلقا).
(٣) في [ب]: (فأتبعه).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) في [ط، هـ]: (شاهر).
(٦) في [ط]: (الشاب).
(٧) سقط من: [هـ].
(٨) في [أ، ب، جـ]: (عمر ثلاثة).
(٩) في [ب]: (يعرف).
(١٠) في [ب]: (وجههم)، وهي غير واضحة.
(١١) صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٢٤٩٠)، والنسائي في الكبرى (٨٥٩٣)، وابن حبان (٥٩٧٢)، والحاكم ١/ ١٨، وابن سعد ٧/ ٤٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٩٤٢)، وأبو يعلى (٦٨٢٩)، ويعقوب في المعرفة ١/ ٣٤٥، والطحاوي ٣/ ٢٠٨، والطبراني ١٧/ (٩٨٠)، والبيهقي ٩/ ١١٦، والخطيب في المتفق (٢٧٣)، وابن قانع ٢/ ٢٧٥، وابن الأثير في أسد الغابة ٤/ ٥٩، والمزي ٢٠/ ٢٢٠.
حضرت حمید بن ھلال رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ میرے پاس اور میرے ایک ساتھی کے پاس تشریف لائے، اور فرمایا: تم دونوں آؤ اس لیے کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ جوان ہو اور مجھ سے زیادہ حدیث کو محفوظ کرنے والے ہو راوی کہتے ہیں: ہم دونوں چلے یہاں تک کہ ہم لوگ حضرت بشر بن عاصم لیثی رحمہ اللہ کے پاس آئے۔ حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنی بات ان دونوں کو بیان کرو۔ انہوں نے فرمایا؛ کہ حضرت عقبہ بن مالک لیثی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا تو اس لشکر نے ایک قوم پر حملہ کردیا پس ایک آدمی قوم سے الگ ہوگیا اور لشکر والوں میں سے ایک آدمی نے اس کا پیچھا کیا اس حال میں کہ اس کے پاس سونتی ہوئی تلوار تھی۔ پس قوم سے الگ ہونے والا شخص کہنے لگا: بلاشبہ میں مسلمان ہوں۔ پس اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور اس پر حملہ کردیا اور قتل کردیا پھر یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی گئی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں سخت بات کہی۔ جب قاتل کو یہ خبر پہنچی تو اس درمیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا: اے اللہ کے نبی 5! خد ا کی قسم اس نے ایسا نہیں کہا تھا مگر صرف قتل سے بچنے کے لیے۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اور اس کے ساتھ جو لوگ ملے ہوئے تھے ان سے اعراض کیا۔ اس شخص نے دو مرتبہ ایسا کہا: ہر مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص سے اعراض کیا۔ اس نے بھی صبر نہیں کیا تیسری مرتبہ یہ بات کہنے سے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے چہرے کے ساتھ اس شخص کی طرف متوجہ ہوئے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقینا اللہ تعالیٰ نے مجھ پر انکار فرمایا مومن کو قتل کرنے والے کے بارے میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35320]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35320، ترقيم محمد عوامة 33780)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35320 in Urdu