🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
94. فيما يمتنع به من (القتل) وما هو؟ وما يحقن الدم؟
ان چیزوں کا بیان جو قتل سے روکتی ہیں اور وہ چیزیں کیا ہیں؟ اور جو چیزیں جان کو محفوظ کرتی ہیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 33782 ترقیم الشثری: -- 35322
٣٥٣٢٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا سفيان بن (حسين) (١) عن الزهري عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة قال: لما ارتد (من ارتد) (٢) على عهد ابي بكر اراد ابو بكر ان يجاهدهم، فقال عمر: اتقاتلهم وقد سمعت رسول الله ﷺ يقول:"من شهد ان لا إله إلا الله وان محمدا رسول الله حرم ماله إلا بحقه وحسابه على الله"، فقال ابو بكر: (انى) (٣) لا نقاتل من فروا بين الصلاة والزكاة؟ والله لاقاتلن من (فرق) (٤) بينهما حتى (٥) اجمعهما، قال عمر: فقاتلنا معه فكان رشدا، فلما ظفر بمن ظفر به منهم (قال) (٦) : اختاروا مني خصلتين: ⦗٣٧٣⦘ إما حربا مجلية وإما (الخطة) (٧) المخزية، فقالوا: هذه الحرب المجلية قد عرفناها فما (الخطة) (٨) المخزية؟ قال: تشهدون على قتلانا انهم في الجنة وعلى قتلاكم انهم في النار -ففعلوا (٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حسن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) أي: كيف، وفي [ط، هـ]: (إنا).
(٤) في [ب]: (فرقا).
(٥) في [أ، ب، جـ]: زيادة (أجمع).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ط، هـ]: (الحطة).
(٨) في [ط، هـ]: (الحطة).
(٩) مرسل ضعيف؛ عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة تابعي، ورواية سفيان بن حسين عن الزهري ضعيفة، وقد ورد الحديث بنحوه وبدون آخره من طريق عبيد اللَّه بن عبد اللَّه بن عتبة عن أبي هريرة، أخرجه البخاري (١٣٩٩)، ومسلم (٢٠).

حضرت عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب مرتد ہوئے وہ لوگ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے زمانے میں مرتد ہوئے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جہاد کرنے کا ارادہ کیا۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا آپ رضی اللہ عنہان لوگوں سے قتال کریں گے حالانکہ تحقیق آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یقینا محمد 5 اللہ کے رسول ہیں تو اس کا مال حرام ہوگیا مگر اللہ رب العزت کے ذمہ اس کا حساب ہوگا؟! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں قتال نہ کروں اس شخص سے جو نماز اور زکوۃ میں فرق کرے؟ اللہ کی قسم! میں ضرور اس شخص سے قتال کروں گا جو ان دونوں کے درمیان فرق کرے گا۔ یہاں تک کہ میں ان دونوں کو جمع کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: پس ہم نے ان کے ساتھ قتال کیا اس حال میں کہ وہ واقعی ہدایت پر تھے۔ پھر جب آپ رضی اللہ عنہان میں سے جتنے بھی لوگوں پر فتح یاب ہوئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم لوگ میری طرف سے دو باتیں اختیار کرو لو۔ یا تو جلا وطن کرنے والی جنگ یا پھر رسوا کردینے والی زمین۔ ان لوگوں نے کہا: کہ جلا وطن کردینے والی جنگ تو ہم سمجھ گئے۔ یہ رسوا کردینے والی زمین سے کیا مراد ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ تم ہمارے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جنت میں ہیں اپنے مقتولین کے بارے میں گواہی دو کہ وہ یقینا جہنم میں ہیں پس ان لوگوں نے ایسا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب السير/حدیث: 35322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35322، ترقيم محمد عوامة 33782)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 35322 in Urdu