🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. ما ذكر في تستر
تستر کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 34506 ترقیم الشثری: -- 36078
٣٦٠٧٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن حميد عن انس قال: حاصرنا تستر فنزل الهرمزان على حكم عمر، فبعث به ابو موسى معي، فلما قدمنا على عمر (سكت) (١) الهرمزان (فلم) (٢) يتكلم، فقال له عمر: تكلم، فقال: اكلام حي ام كلام ميت؟ قال: تكلم فلا باس، قال: إنا وإياكم معشر العرب ما خلى الله بيننا وبينكم، فإنا كنا نقتلكم ونقصيكم، و (اما إذ) (٣) كان الله معكم لم يكن لنا (بكم) (٤) يدان، فقال عمر: ما تقول يا انس؟ قلت: يا امير المؤمنين، تركت خلفي شوكة شديدة و (عددا) (٥) كثيرا، إن قتلته ايس القوم من الحياة وكان اشد لشوكتهم، وإن استحييته طمع القوم، فقال: يا انس استحيى قاتل البراء بن مالك ومجزاة بن ثور، فلما خشيت ان يبسط عليه قلت: ليس إلى قتله سبيل، فقال عمر: لم؟ اعطاك؟ اصبت منه؟ قلت: ما فعلت ولكنك قلت له: تكلم فلا باس، قال: لتجيئن بمن يشهد او لابدان بعقوبتك (٦) ، فخرجت من عنده فإذا انا بالزبير قد حفظ ما حفظت، فشهد عنده فتركه (واسلم الهرمزان) (٧) وفرض له (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (سكن).
(٢) في [ط، هـ]: (ولم).
(٣) في [أ، ط، هـ]: (لما أن).
(٤) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٥) في [أ]: (عدوا).
(٦) في [هـ]: زيادة (قال).
(٧) سقط ما بين القوسين في: [أ، ب، جـ].
(٨) صحيح.

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تستر کا محاصرہ کیا تو ہرمزان نے حضرت عمر کی خلافت کے سامنے سر تسلیم خم کرلیا۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ہرمزان کے ساتھ مجھے حضرت عمر کی طرف بھیجا۔ جب ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہرمزان نے کوئی بات نہ کی اور خاموش رہا۔ حضرت عمر نے اس سے فرمایا کہ بات کرو۔ اس نے کہا کہ زندہ شخص کی بات کروں یامردہ کی؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم بات کرو تم پر کوئی حرج نہیں۔ اس نے کہا کہ اے اہل عرب اللہ تعالیٰ نے ہمارے اور تمہارے درمیان بہت فرق کردیا ہے، ایک وقت وہ تھا جب ہم تمہیں قتل کرتے تھے اور تم پر غالب آتے تھے۔ اور جب اللہ تمہارے ساتھ ہوگیا تو اب ہمارا تم پر زور نہیں چلتا۔ پھر حضرت عمر نے فرمایا کہ اے انس تم کیا کہتے ہو؟ میں نے کہا کہ اے امیر المومنین! میں نے اپنے پیچھے زبردست طاقت اور بڑی تعداد چھوڑی ہے۔ اگر آپ اس کو قتل کردیں گے تو لوگ زندگی سے مایوس ہوجائیں گے اور یہ ان کی قوت کے لئے سخت ہوگا اور اگر آپ اسے زندہ چھوڑیں گے تو لوگ لالچ کریں گے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا میں براء بن مالک اور مجزأۃ بن ثور کے قاتل کو زندہ چھوڑ دوں! حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے دیکھا کہ وہ اسے قتل کردیں گے تو میں نے کہا کہ آپ اسے قتل نہیں کرسکتے؟ انہوں نے فرمایا کیوں؟ کیا تم نے اس سے کوئی مالی مدد لے لی ہے؟ میں نے کہا میں نے ایسا نہیں کیا۔ آپ نے اس سے کہا کہ تم بات کرو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ تم اس بات پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا۔ پس میں گواہ کی تلاش میں نکلا تو مجھے حضرت زبیر ملے، انہیں بھی وہ بات یاد تھی جو مجھے یاد تھی۔ انہوں نے اس بات کی گواہی دی تو حضرت عمر نے ہرمزان کو چھوڑ دیا اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا اور حضرت عمر نے اس کا وظیفہ مقرر کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البعوث والسرايا/حدیث: 36078]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 36078، ترقيم محمد عوامة 34506)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 36078 in Urdu