پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ما ذكر عن نبينا ﷺ في الزهد
زھد سے متعلق ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
ترقیم عوامۃ: 35564 ترقیم الشثری: -- 37142
٣٧١٤٢ - حدثنا وكيع عن طلحة بن يحيى قال: حدثني إبراهيم (١) بن محمد بن طلحة عن عبد الله بن شداد قال: جاء ثلاثة (رهط) (٢) من بني (عذرة) (٣) إلى النبي ﷺ فاسلموا، قال: فقال النبي ﷺ:"من يكفيني هولاء؟" قال: فقال طلحة: انا، قال: فكانوا عندي، قال: فضرب على الناس بعث، قال: فخرج احدهم فاستشهد، ثم ضرب بعث فخرج الثاني فيه فاستشهد، قال: وبقي الثالث حتى مات مريضا على فراشه، قال طلحة: فرايت في النوم كاني ادخلت الجنة فرايتهم اعرفهم باسمائهم وسيماهم، قال: فإذا الذي مات على فراشه دخل اولهم، وإذا الثاني من (المستشهدين) (٤) على اثره، وإذا اولهم آخرهم، قال: فدخلني (من) (٥) ذلك، قال: فاتيت النبي ﷺ فذكرت ذلك له، فقال النبي ﷺ:" (ليس احد عند الله افضل) (٦) من معمر يعمر في الإسلام لتهليله وتكبيره وتسبيحه وتحميده" (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: زيادة (ابن إبراهيم).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ]: (عنده).
(٤) في [ع]: (المتشددين).
(٥) في [ع]: (في).
(٦) في [أ، ب، جـ]: (ليس عند اللَّه أحد أفضل).
(٧) مضطرب؛ اضطرب طلحة فيه فرواه على أوجه مختلفة، أخرجه أحمد (١٤٠١)، والنسائي (١٠٦٧٤)، وعبد بن حميد (١٠٤)، والبزار (٩٥٤)، وأبو يعلى (٦٣٤)، والضياء في المختارة ٣/ (٨٣٠)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٤/ ٢٢٣.
حضرت عبداللہ بن شداد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنو عذرہ کے تین لوگ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام لے آئے۔ راوی کہتے ہیں آپ نے پوچھا: ”ان لوگوں کو میری طرف سے کون کفایت کرے گا؟“ راوی کہتے ہیں حضرت طلحہ نے کہا میں۔ طلحہ کہتے ہیں پس وہ میرے پاس ہی تھے۔ کہتے ہیں کہ لوگوں کو ایک سفر میں جانا پڑا۔ راوی کہتے ہیں پس ان میں سے ایک باہر سفر میں گیا اور شہید ہوگیا۔ پھر ایک اور سفر درپیش ہوا تو دوسرا آدمی اس میں شامل ہوا اور وہ بھی شہید ہوگیا۔ راوی کہتے ہیں تیسرا آدمی رہ گیا یہاں تک کہ وہ اپنے بستر پر ہی بیمار ہو کر مرگیا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پس میں نے خواب میں دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوگیا ہوں۔ میں ان لوگوں کو ان کے ناموں اور نشانوں سے پہچانتا تھا۔ کہتے ہیں کہ پس جو آدمی ان میں سے اپنے بستر پر مرا تھا وہ ان دونوں سے پہلے جنت میں داخل ہوا۔ اور دوسرا شہید ہونے والا اس کے بعد آیا۔ اور ان میں سے پہلا شہید ہونے والا، سب سے آخر میں آیا۔ راوی کہتے ہیں یہ دیکھ کر میرے دل میں کچھ خیال سا آیا۔ کہتے ہیں میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے ہاں اس معمر آدمی سے زیادہ کسی کو فضیلت نہیں ہے جو اسلام میں عمر گزار کر گیا ہو۔ کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ پڑھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37142]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37142، ترقيم محمد عوامة 35564)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37142 in Urdu