🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. كلام أبي بكر الصديق ﵁
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35574 ترقیم الشثری: -- 37152
٣٧١٥٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن (زبيد) (١) قال: لما حضرت ابا بكر الوفاة ارسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن حفظتها: ان لله حقا في الليل لا يقبله في النهار، وإن لله حقا في النهار لا يقبله في الليل، وإنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة، وإنما خفت موازين (من خفت موازينه) (٢) يوم القيامة باتباعهم الباطل في (الدنيا) (٣) وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل ان يكون خفيفا، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق في (الدنيا) (٤) وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه يوم القيامة إلا الحق ان يكون ثقيلا، الم تر ان الله ذكر اهل الجنة بصالح ما عملوا، [وتجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: الا (ابلغ) (٥) هؤلاء، وذكر اهل النار بسيء ما عملوا ورد عليهم صالح ما ⦗٢٩٨⦘ عملوا] (٦) ، فيقول القائل: انا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة، وآية العذاب، فيكون المؤمن راغبا راهبا، ولا يتمنى على الله غير الحق، ولا يلقي بيديه إلى التهلكة، فإن انت حفظت قولي هذا فلا يكن غائب احب إليك من الموت ولا بد لك منه، وإن انت ضيعت قولي هذا فلا يكن غائب ابغض إليك منه ولن تعجزه (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (زبير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (بلغ).
(٦) سقط من: [أ] ما بين المعكوفين.
(٧) منقطع، زبيد لا يروي عن أبي بكر، وأخرجه هناد في الزهد (٤٩٦)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٠٩٨)، والخلال في السنة (٣٢٧)، والآجري في الشريعة (١٢٠٢)، وابن عساكر ٣٠/ ٤١٣.

حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا: میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے یاد رکھو تو بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک حق رات کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ دن میں قبول نہیں کرتے اور بیشک ایک حق اللہ تعالیٰ کا دن کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ رات کے وقت قبول نہیں کرتے۔ اور یہ کہ جب تک فرض ادا نہ ہوں، نفل قبول نہیں ہوتے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن ہلکے ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے ہلکے ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں باطل کی پیروی کی اور باطل ان کو ہلکا محسوس ہوا۔ اور میزان کے لیے یہ بات حق ہے کہ اس میں باطل ہی رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن وزنی ہوں گے تو ان کے اعمال صرف اس وجہ سے وزنی ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں حق کی پیروی کی اور حق ان پر بھاری محسوس ہوا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں بروز قیامت حق رکھا جائے یہی بات لائق ہے کہ وہ بھاری ہوجائے۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اچھے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے میں ان لوگوں کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے برے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کے اچھے اعمال کو ان پر رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے۔ میں ان لوگوں سے بہتر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی آیت کو اور عذاب کی آیت کو ذکر فرمایا تاکہ صاحب ایمان خوف کھانے والا اور شوق رکھنے والا ہو اور خدا پر حق کے سوا کوئی تمنا نہ کرے اور اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ پڑے۔ پس اگر تم نے میری یہ بات یاد رکھی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی اور یہ موت تو ضروری ہے۔ اور اگر تم نے میری یہ بات ضائع کی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی اور تو موت کو عاجز نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37152، ترقيم محمد عوامة 35574)

Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 37152 in Urdu