🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. كلام أبي بكر الصديق ﵁
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا کلام
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35572 ترقیم الشثری: -- 37150
٣٧١٥٠ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد الرحمن بن إسحاق عن عبد الله القرشي عن عبد الله بن (عكيم) (١) قال: خطبنا ابو بكر فقال: اما بعد فإني اوصيكم بتقوى الله، وان تثنوا عليه بما هو له اهل، وان تخلطوا (الرغبة بالرهبة) (٢) وتجمعوا ⦗٢٩٦⦘ الإلحاف بالمسالة، فإن الله اثنى على زكريا وعلى اهل بيته فقال: ﴿إنهم كانوا يسارعون في الخيرات ويدعوننا رغبا ورهبا وكانوا لنا خاشعين﴾ [الانبياء: ٩٠] ، ثم اعلموا عباد الله، ان الله قد ارتهن بحقه انفسكم، واخذ على ذلك مواثيقكم، واشترى منكم القليل الفاني بالكثير الباقي، وهذا كتاب الله فيكم لا تفنى عجائبه و (لا) (٣) يطفا نوره، فصدقوا (بقوله) (٤) ، وانتصحوا (كتابه) (٥) ، واستبصروا فيه ليوم الظلمة، فإنما خلقكم للعبادة، ووكل بكم الكرام الكاتبين يعلمون ما تفعلون، ثم اعلموا -عباد الله- انكم تغدون وتروحون في اجل قد غيب عنكم علمه، فإن استطعتم ان تنقضي الآجال وانتم في عمل الله فافعلوا، ولن تستطيعوا ذلك إلا بالله، فسابقوا في مهل آجالكم قبل ان تنقضي آجالكم فيردكم إلى اسوا اعمالكم، فإن اقواما جعلوا آجالهم لغيرهم ونسوا انفسهم فانهاكم ان تكونوا امثالهم، فالوحاء الوحاء والنجاء النجاء فإن وراءكم طالبا حثيثا (مرة) (٦) سريع (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (حكيم)، وفي [جـ]: (حكم).
(٢) في [أ، ب، س]: (الرهبة بالرغبة).
(٣) سقط من: [س].
(٤) في [هـ]: (قوله).
(٥) سقط من: [س].
(٦) في [أ، ب]: (أمره).
(٧) ضعيف؛ لحال عبد الرحمن بن إسحاق، وأخرجه الحاكم ٢/ ٣٨٣، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٥، والبيهقي في شعب الإيمان (١٠٥٩٣، ١٠٥٩٤)، وابن أبي حاتم في تفسيره (١٣٧١٩).

حضرت عبداللہ بن عکیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خطبہ ارشاد فرمایا تو کہا: اما بعد! بیشک میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ اور اس بات کی تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ کی ثنا اس طرح کرو جیسے وہ ثنا کا اہل ہے اور یہ کہ تم خوف کو شوق کے ساتھ ملائے رکھو۔ اور یہ کہ تم خوب چمٹ کر مانگنے کو سوال کے ساتھ جمع کرو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا اور ان کے گھر والوں کی تعریف کی ہے۔ فرمایا: {إنَّہُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِی الْخَیْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَہَبًا وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِینَ } اللہ کے بندو! پھر یہ بات جان لو۔ یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری جانوں کو اپنے حق کے عوض رہن رکھا ہے اور اس پر تم سے پختہ عہد لیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے تم سے فنا ہونے والی تھوڑی چیز کے بدلہ میں باقی رہنے والی کثیر چیز دے کر تم سے خریداری کی ہے۔ یہ تم میں اللہ کی کتاب ہے۔ اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے اور اس کا نور بند نہیں ہوتا۔ پس تم اس کے کلام کی تصدیق کرو۔ اور اس کی کتاب سے نصیحت حاصل کرو۔ اور اندھیرے کے دن میں اس سے بصیرت حاصل کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں صرف عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اور کراماً کاتبین کو تم پر مقرر فرمایا ہے۔ وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو۔ اللہ کے بندو! پھر یہ بات جان لو۔ تم لوگ ایک مہلت میں صبح وشام گزار رہے ہو جس کا علم تم سے غائب ہے۔ اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ مہلتیں اس طرح سے ختم ہوں کہ تم اللہ کے کام میں ہو۔ تو پس تم یہ کام کرو۔ اور یہ کام تم اللہ کی توفیق کے بغیر نہیں کرسکتے ہو۔ پس تم اپنی مہلت کے موجود لمحوں میں جلدی کرو۔ قبل اس کے کہ تمہاری عمریں پوری ہوجائیں پھر تمہیں تمہارے برے اعمال کی طرف لوٹا دیا جائے۔ بیشک کچھ لوگوں نے اپنے اوقات کو دوسروں کے لیے کردیا اور اپنی جانوں کو بھول گئے لیکن میں تمہیں ان جیسا بننے سے منع کرتا ہوں۔ پس جلدی کرو۔ پس جلدی کرو۔ النجاء النجاء کیونکہ تمہارے پیچھے ایک تیز طالب ہے جس کا گزرنا بہت تیز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37150]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37150، ترقيم محمد عوامة 35572)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35573 ترقیم الشثری: -- 37151
٣٧١٥١ - حدثنا ابو معاوية عن (جويبر) (١) عن الضحاك قال: راى ابو بكر الصديق طيرا (واقعا) (٢) على شجرة (٣) فقال: طوبى لك يا طير والله لوددت اني ⦗٢٩٧⦘ كنت مثلك، تقع على (الشجر) (٤) وتاكل من الثمر ثم تطير وليس عليك حساب ولا عذاب، والله لوددت (اني كنت) (٥) شجرة إلى جانب الطريق مر علي جمل فاخذني فادخلني فاه فلاكني ثم (ازدردني) (٦) ثم اخرجني بعرا ولم اكن بشرا (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (جوبير).
(٢) في [أ، ب]: (واقفًا).
(٣) في [جـ، ع]: زيادة (قال).
(٤) في [أ، ط، هـ]: (الشجرة).
(٥) في [ع]: (أن أكون).
(٦) في [أ، ب]: (أردرذني).
(٧) ضعيف جدًا منقطع؛ جويبر متروك، والضحاك لا يروي عن أبي بكر، أخرجه هناد في الزهد (٤٤٩)، وابن عساكر ٣٠/ ٣٣٠، والبيهقي في الشعب (٧٨٦).

حضرت ضحاک سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک پرندے کو درخت پر بیٹھے دیکھا تو فرمایا: اے پرندے! تجھے مبارک ہو۔ خدا کی قسم! میں پسند کرتا ہوں کہ میں تیرے جیسا ہوتا۔ تو درختوں پر بیٹھتا ہے، پھلوں کو کھاتا ہے، پھر اُڑ جاتا ہے۔ تجھے نہ حساب ہے نہ عذاب۔ خدا کی قسم! میں پسند کرتا ہوں کہ میں راستہ کے ایک جانب لگا ہوا درخت ہوتا۔ میرے پاس سے کوئی اونٹ گزرتا۔ مجھے پکڑتا اور اپنے منہ میں ڈال لیتا پھر وہ مجھے چباتا مجھے توڑتا پھر مجھے مینگنی بنا کر نکال دیتا لیکن میں انسان نہ ہوتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37151]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37151، ترقيم محمد عوامة 35573)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35574 ترقیم الشثری: -- 37152
٣٧١٥٢ - حدثنا عبد الله بن إدريس عن إسماعيل بن ابي خالد عن (زبيد) (١) قال: لما حضرت ابا بكر الوفاة ارسل إلى عمر فقال: إني موصيك بوصية إن حفظتها: ان لله حقا في الليل لا يقبله في النهار، وإن لله حقا في النهار لا يقبله في الليل، وإنه لا يقبل نافلة حتى تؤدى الفريضة، وإنما خفت موازين (من خفت موازينه) (٢) يوم القيامة باتباعهم الباطل في (الدنيا) (٣) وخفته عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه إلا الباطل ان يكون خفيفا، وإنما ثقلت موازين من ثقلت موازينه يوم القيامة باتباعهم الحق في (الدنيا) (٤) وثقله عليهم، وحق لميزان لا يوضع فيه يوم القيامة إلا الحق ان يكون ثقيلا، الم تر ان الله ذكر اهل الجنة بصالح ما عملوا، [وتجاوز عن سيئاتهم، فيقول القائل: الا (ابلغ) (٥) هؤلاء، وذكر اهل النار بسيء ما عملوا ورد عليهم صالح ما ⦗٢٩٨⦘ عملوا] (٦) ، فيقول القائل: انا خير من هؤلاء، وذكر آية الرحمة، وآية العذاب، فيكون المؤمن راغبا راهبا، ولا يتمنى على الله غير الحق، ولا يلقي بيديه إلى التهلكة، فإن انت حفظت قولي هذا فلا يكن غائب احب إليك من الموت ولا بد لك منه، وإن انت ضيعت قولي هذا فلا يكن غائب ابغض إليك منه ولن تعجزه (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (زبير).
(٢) سقط من: [س].
(٣) في [أ]: (الدني).
(٤) في [أ]: (الدني).
(٥) في [أ، ب، ط، هـ]: (بلغ).
(٦) سقط من: [أ] ما بين المعكوفين.
(٧) منقطع، زبيد لا يروي عن أبي بكر، وأخرجه هناد في الزهد (٤٩٦)، وابن شبه في تاريخ المدينة (١٠٩٨)، والخلال في السنة (٣٢٧)، والآجري في الشريعة (١٢٠٢)، وابن عساكر ٣٠/ ٤١٣.

حضرت زبید سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت آیا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف آدمی بھیجا اور فرمایا: میں تمہیں ایک وصیت کرتا ہوں اگر تم اسے یاد رکھو تو بیشک اللہ تعالیٰ کا ایک حق رات کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ دن میں قبول نہیں کرتے اور بیشک ایک حق اللہ تعالیٰ کا دن کے وقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ رات کے وقت قبول نہیں کرتے۔ اور یہ کہ جب تک فرض ادا نہ ہوں، نفل قبول نہیں ہوتے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن ہلکے ہوں گے ان کے اعمال صرف اس وجہ سے ہلکے ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں باطل کی پیروی کی اور باطل ان کو ہلکا محسوس ہوا۔ اور میزان کے لیے یہ بات حق ہے کہ اس میں باطل ہی رکھا جائے تو وہ ہلکا ہوجائے۔ اور جن لوگوں کے اعمال قیامت کے دن وزنی ہوں گے تو ان کے اعمال صرف اس وجہ سے وزنی ہوں گے کہ انہوں نے دنیا میں حق کی پیروی کی اور حق ان پر بھاری محسوس ہوا۔ اور ایسے میزان کے لیے جس میں بروز قیامت حق رکھا جائے یہی بات لائق ہے کہ وہ بھاری ہوجائے۔ تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے اچھے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کی غلطیوں سے درگزر کیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے میں ان لوگوں کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے برے اعمال کا ذکر کیا ہے اور ان کے اچھے اعمال کو ان پر رد فرما دیا ہے۔ پس کہنے والا کہتا ہے۔ میں ان لوگوں سے بہتر ہوں اور اللہ تعالیٰ نے رحمت کی آیت کو اور عذاب کی آیت کو ذکر فرمایا تاکہ صاحب ایمان خوف کھانے والا اور شوق رکھنے والا ہو اور خدا پر حق کے سوا کوئی تمنا نہ کرے اور اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ پڑے۔ پس اگر تم نے میری یہ بات یاد رکھی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ محبوب نہیں ہوگی اور یہ موت تو ضروری ہے۔ اور اگر تم نے میری یہ بات ضائع کی تو پھر کوئی غائب چیز تمہیں موت سے زیادہ مبغوض نہیں ہوگی اور تو موت کو عاجز نہیں کرسکتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37152، ترقيم محمد عوامة 35574)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35575 ترقیم الشثری: -- 37153
٣٧١٥٣ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الاعمش عن سليمان بن ميسرة عن طارق ابن شهاب عن (رافع بن ابي رافع) (١) قال: (رافقت) (٢) ابا بكر وكان له كساء (فدكي) (٣) يخله عليه إذا ركب، (ونلبسه) (٤) انا وهو إذا نزلنا، وهو الكساء الذي عيرته به هوازن، فقالوا: (اذا) (٥) (الخلال) (٦) نبايع بعد رسول الله ﷺ (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [ب]: (وافقت).
(٣) في [غ]: (فدلى)، منسوب إلى مدينة (فدك)، ويخله: يربط طرفيه بمشبك.
(٤) في [س]: (ويلبسه).
(٥) صيغة استفهام، وفي [ب]: (ذا).
(٦) في [أ، ب]: (الحلال).
(٧) صحيح؛ أخرجه أحمد في الزهد (ص ١٠٨)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٢٠٩٥)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٤٩٦)، والطبراني (٤٤٦٧) والخطيب في الموضع ٢/ ٨٧، وابن عساكر ١٨/ ٨.

حضرت رافع بن ابی رافع سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر کے ساتھ مرافقت کی اور ان کے پاس مقام فدک کی ایک چادر تھی جس کو آپ سوار ہو کر سمیٹ لیتے تھے اور جب ہم اترتے تو ہم اس کو پہن لیتے۔ یہ وہی چادر ہے جس کا طعنہ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قبیلہ ہوازن نے دیا تھا۔ اور انہوں نے کہا کیا ہم اس چادر والے کی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بیعت کریں؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37153]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37153، ترقيم محمد عوامة 35575)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35576 ترقیم الشثری: -- 37154
٣٧١٥٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا محمد بن عمرو عن محمد بن إبراهيم قال: لما نزلت: ﴿إن الذين يغضون اصواتهم عند رسول الله اولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقوى﴾ [الحجرات: ٣] قال ابو بكر الصديق: (يا رسول الله ﷺ) (١) (٢) ⦗٢٩٩⦘ لا اكلمك إلا كاخي السرار حتى القى الله (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) سقط من: [أ، ب، خ، ع].
(٣) مرسل؛ محمد بن إبراهيم ليس صحابيًا، وورد نحوه من مسند أبي بكر، أخرجه الحاكم ٣/ ٧٤، والبزار (٥٦)، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة (٧٢٩)، وأخرجه الحاكم ٢/ ٤٦٢ من مسند أبي هريرة، وأخرجه البخاري (٧٣٠٢) نحوه عن عمر.

حضرت محمد بن ابراہیم سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت {إنَّ الَّذِینَ یَغُضُّونَ أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللہِ أُولَئِکَ الَّذِینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوَی } نازل ہوئی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں مرتے دم تک آپ سے محض سرگوشی کرنے والے آدمی کی طرح ہی کلام کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37154]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37154، ترقيم محمد عوامة 35576)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35577 ترقیم الشثری: -- 37155
٣٧١٥٥ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا حماد بن سلمة عن ثابت عن انس قال: كان ابو بكر يخطبنا فيذكر (بدء) (١) خلق الإنسان فيقول: خلق (٢) من مجرى البول من نتن، فيذكر حتى يتقذر احدنا نفسه (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بدأ).
(٢) في [ع]: زيادة (الإنسان).
(٣) صحيح؛ أخرجه ابن أبي الدنيا في التواضع والخمول (٢٠٠).

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں خطبہ دے رہے تھے۔ پس انہوں نے انسان کی تخلیق کا آغاز ذکر کیا تو فرمایا: انسان کو پیشاب کی نالی کی بدبو سے پیدا کیا گیا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کا ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے کو گندا سمجھنے لگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37155]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37155، ترقيم محمد عوامة 35577)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35578 ترقیم الشثری: -- 37156
٣٧١٥٦ - حدثنا وكيع عن (مسعر) (١) عن (ابي) (٢) عون عن عرفجة السلمي قال: قال ابو بكر: ابكوا، فإن لم تبكوا فتباكوا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (مسعود).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (ابن).
(٣) مجهول؛ عرفجة السلمي انفرد بالرواية عنه أبو عون الثقفي، وأخرجه أحمد في الزهد (ص ١٠٨)، وابن المبارك في الزهد (١٣١)، والخطيب ٥/ ٣٢٥، والبيهقي في شعب الإيمان (٨٠٦).

حضرت عرفجہ سلمی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: روؤ۔ پس اگر تم رو نہ سکو تو رونے کی شکل بناؤ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37156]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37156، ترقيم محمد عوامة 35578)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35579 ترقیم الشثری: -- 37157
٣٧١٥٧ - حدثنا ابو اسامة عن زائدة عن عبد الملك بن عمير عن ربعي عن ابي موسى قال: قال عمرو بن العاص: والله لئن كان ابو بكر وعمر تركا هذا المال وهو يحل لهما شيء منه، لقد غبنا ونقص رايهما، وايم الله (ما كانا) (١) بمغبونين ولا ناقصي الراي، ولئن كانا امراين يحرم عليهما من هذا المال الذي اصبنا بعدهما لقد هلكنا، وايم الله ما الوهم إلا من قبلنا (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (ما كانوا).
(٢) صحيح؛ أخرجه الطبراني كما في مجمع الزوائد ٥/ ٢٣٢، قال الهيثمي: "ورجاله رجال الصحيح".

حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص نے ارشاد فرمایا: خدا کی قسم! اگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس مال کو چھوڑا ہے جبکہ اس مال کا کچھ حصہ تو ان کے لیے حلال تھا۔ تو پھر ان دونوں کو دھوکہ ہوا ہے یا ان کی رائے میں نقص تھا۔ (پھر فرمایا) خدا کی قسم! وہ دونوں دھوکہ کھائے ہوئے نہیں تھے اور نہ ہی وہ ناقص الرائے تھے۔ اور اگر یہ دونوں حضرات ایسے تھے کہ ان پر ہمیں ان کے بعد ملنے والا حرام تھا تو پھر یقینا ہم ہلاک ہوگئے اور خدا کی قسم! یہ وہم ہمارے حق میں ہی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37157، ترقيم محمد عوامة 35579)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35580 ترقیم الشثری: -- 37158
٣٧١٥٨ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: قام ابو بكر خطيبا فقال: ابشروا فإني ارجو ان يتم الله هذا الامر، حتى تشبعوا من الزيت والخبز (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ مجاهد لم يدرك أبا بكر.
حضرت مجاہد سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: تمہیں بشارت ہو کیونکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ کو پورا کرے گا یہاں تک کہ تم زیتون کے تیل اور روٹی سے سیراب ہوگے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37158، ترقيم محمد عوامة 35580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 35581 ترقیم الشثری: -- 37159
٣٧١٥٩ - حدثنا عبد الرحمن بن محمد المحاربي عن مالك عن ابي السفر قال: دخل على ابي بكر ناس من إخوانه يعودونه في مرضه فقالوا (له) (١) : يا خليفة رسول الله ﷺ (٢) الا ندعو لك طبيبا ينظر إليك؟ قال: قد نظر إلي، قالوا: فماذا قال لك؟ قال: قال: (إني) (٣) فعال لما (اريد) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) سقط من: [جـ، س، ع].
(٣) في [ع]: (لي).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (يريد).
(٥) منقطع؛ أبو السفر سعيد بن محمد لم يدرك أبا بكر، ومالك هو ابن مغول ثقة، وأخرجه أحمد في الزهد (ص ١١٣)، وهناد (٣٨٢)، وابن سعد ٣/ ١٩٨، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٣٤، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٣٣٢، وابن أبي الدنيا في المحتضرين (٣٩)، وابن الجوزي في الثبات (ص ٩٨).

حضرت ابوالسفر سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری کے دوران ان کے بھائیوں میں سے کچھ لوگ ان کی عیادت کے لیے آئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ! کیا ہم آپ کے لیے حکیم کو نہ بلائیں جو آپ کو دیکھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میری طرف طبیب نے دیکھ لیا ہے۔ لوگوں نے پوچھا پھر اس نے آپ سے کیا کہا ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حکیم نے کہا ہے میں نے جو ارادہ کرلیا ہے اس کو ضرور کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزهد/حدیث: 37159]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 37159، ترقيم محمد عوامة 35581)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں