مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
5. في أذي قريش للنبي ﷺ وما لقي منهم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش کی اذیت پہنچانے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو ان سے تکالیف پہنچی ہیں ان کا بیان
ترقیم عوامۃ: 37719 ترقیم الشثری: -- 39323
٣٩٣٢٣ - حدثنا ابو اسامة قال: حدثنا الاعمش قال: حدثنا عباد عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لما ان مرض ابو طالب دخل عليه رهط من قريش فيهم ابو جهل قال: فقالوا: إن ابن اخيك يشتم آلهتنا ويفعل ويفعل (وبقول (ويقول) ) (١) (٢) ، فلو بعثت إليه فنهيته، فبعث إليه او قال: جاء النبي ﷺ فدخل البيت (وبينه) (٣) وبين ابي طالب مجلس رجل، قال: فخشي ابو جهل إن جلس النبي ﷺ (٤) إلى جنب ابي طالب ان يكون ارق له عليه، فوثب فجلس (في) (٥) ذلك المجلس، ولم يجد النبي ﷺ (٦) مجلسا قرب عمه، فجلس عند الباب قال ابو طالب: اي ابن اخي ما بال قومك يشكونك؟ يزعمون (انك) (٧) تشتم آلهتهم وتقول ⦗٣٦٦⦘ (وتقول) (٨) وتفعل وتفعل، قال: فاكثروا عليه من اللحو، قال: فتكلم النبي ﵊ فقال:"يا عم، إني اريدهم على كلمة واحدة يقولونها تدين لهم بها العرب، وتؤدي (إليهم) (٩) بها العجم الجزية"، قال: ففزعوا لكلمته ولقوله قال: فقال القوم: كلمة واحدة -نعم وابيك- وعشرا، قال: وما هي قال: ابو طالب واي كلمة هي يا ابن اخي قال:"لا إله إلا الله"، قال: فقاموا فزعين ينفضون ثيابهم وهم يقولون: ﴿اجعل الآلهة إلها واحدا إن هذا لشيء عجاب﴾، قال: وقرا من هذا الموضع إلى قوله: ﴿لما يذوقوا عذاب﴾ [ص: ٥، ٨] (١٠) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ، ي].
(٢) سقط من: [أ، ب، س].
(٣) في [ط، هـ]: (وبينهم).
(٤) في [أ]: زيادة (وآله).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ]: زيادة (وآله).
(٧) سقط من: [س].
(٨) سقط من: [أ، ب، س].
(٩) في [أ، ب]: (لمن).
(١٠) مجهول؛ لجهالة عباد وقيل في اسمه يحيى بن عباد، وقيل يحيى بن عمارة، أخرجه أحمد (٣٤١٩)، والنسائي في الكبرى (١١٤٣٧)، والطبري في التفسير ٢٣/ ١٢٥، والترمذي (٣٢٣٢)، وابن حبان (٦٦٨٦)، والحاكم ٢/ ٤٣٢، والواحدي في أسباب النزول ص ٢٤٦، وأبو يعلي (٢٥٨٣)، وعبد الرزاق (٩٩٢٤)، وابن عساكر ٦٦/ ٣٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٣٤٥، والطحاوي في شرح المشكل ٥/ ٢٦٤، والضياء ١٠/ (٤١٤).
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب ابو طالب کا مرض (الوفات) شروع ہوا تو ان کے پاس قریش کا ایک گروہ حاضر ہوا جن میں ابو جہل بھی تھا۔ راوی کہتے ہیں۔ انہوں نے (ابو طالب سے) کہا۔ آپ کا بھتیجا ہمارے معبودوں کو گالیاں دیتا ہے۔ اور یہ یہ کرتا ہے اور یہ یہ کہتا ہے۔ اگر (اس کی طرف کسی کو) بھیج دیں اور اس کو منع کردیں (تو اچھا ہو) ابو طالب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف (کسی کو) بھیجا۔ یا راوی کہتے ہیں کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے اور گھر میں داخل ہوئے۔ ابو طالب اور آپ کے درمیان ایک آدمی کی نشست کی جگہ تھی۔ راوی کہتے ہیں: ابو جہل کوا س بات کا خوف ہوا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابو طالب کے پہلو میں بیٹھ گئے تو یہ چیز ابو طالب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نرم کر دے گی۔ پس ابو جہل اچھل کر اس نشست پر بیٹھ گیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا کے قریب کوئی نشست نہ ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ ابو طالب نے کہا! اے بھتیجے! کیا وجہ ہے کہ آپ کی قوم آپ کے بارے میں شکایت کررہی ہے؟ ان کا خیال ہے کہ آپ ان کے معبودان کو برا بھلا کہتے ہیں اور یہ یہ کہتے ہیں اور یہ یہ کرتے ہیں۔ راوی کہتے ہیں۔ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب ملامت کی۔ راوی کہتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گفتگو کی اور فرمایا: اے چچا جان! میں انہیں ایسے کلمہ پر بلانا چاہتا ہوں جس کو یہ کہہ لیں گے تو عرب ان کے لئے فرمانبردارہو جائیں گے اور عجم ان کی طرف اپنے جزیہ بھیجیں گے۔ راوی کہتے ہیں: قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سُن کر حیران ہوگئے۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: ایک کلمہ! ہاں! تیرے باپ کی قسم! دس (کلمہ بھی ایسے کہلوا لو) وہ کیا کلمہ ہے؟ ابو طالب نے پوچھا اے بھتیجے! وہ کون سا کلمہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ سب قریشی گھبرا کر اٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو جھاڑنے لگے اور وہ کہہ رہے تھے۔ { أَجَعَلَ الآلِہَۃَ إِلَہًا وَاحِدًا، إِنَّ ہَذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ} راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے۔ { لَمَّا یَذُوقُوا عَذَابِ } تک قراءت کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39323، ترقيم محمد عوامة 37719)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39323 in Urdu