🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. هذا ما حفظ أبو بكر في أحد وما جاء فيها
یہ وہ احادیث ہیں جنہیں واقعہ اُحد اور اس کے حالات کے بارے میں ابو بکر (ابن شیبہ) نے محفوظ کیا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 37938 ترقیم الشثری: -- 39547
٣٩٥٤٧ - حدثنا عفان، قال: حدثنا حماد بن سلمة، قال: (اخبرنا) (١) عطاء بن السائب، عن الشعبي، عن ابن مسعود ان النساء كن يوم احد خلف المسلمين يجهزن على جرحى المشركين فلو حلفت يومئذ لرجوت ان ابر: انه ليس احد منا يريد الدنيا حتى انزل الله: ﴿منكم من يريد الدنيا ومنكم من يريد الآخرة ثم صرفكم عنهم ليبتليكم﴾ [آل عمران: ١٥٢] فلما خالف اصحاب النبي ﷺ وعصوا ما امروا به، (افرد) (٢) رسول الله ﷺ في تسعة: سبعة من الانصار ورجلين من قريش وهو عاشرهم، فلما رهقوه (قال) (٣) :"رحم الله رجلا ردهم عنا"، قال: فقام رجل من الانصار فقاتل ساعة حتى قتل، فلما رهقوه ايضا قال:"يرحم (الله رجلا ردهم) (٤) عنا"، فلم يزل يقول حتى قتل السبعة، فقال النبي ﷺ لصاحبيه:"ما انصفنا اصحابنا". فجاء ابو سفيان فقال: اعل هبل، فقال رسول الله ﷺ: ("قولوا: الله اعلى واجل"، فقال ابو سفيان: لنا عزى ولا عزى لكم، فقال رسول الله ﷺ) (٥) : قولوا: ⦗٤٨٠⦘"الله مولانا، والكافرون لا مولى لهم"، فقال ابو سفيان: يوم بيوم بدر، يوم لنا ويوم علينا، ويوما (نساء) (٦) ويوما نسر، حنظلة بحنظلة، وفلان بفلان، وفلان بفلان، فقال رسول الله ﷺ:"لا سواء، اما قتلانا فاحياء يرزقون، وقتلاكم في النار يعذبون". ثم قال ابو سفيان: قد كان في القوم مثلة، وإن كانت (٧) بغير ملاء مني، ما امرت ولا نهيت، ولا احببت ولا كرهت، ولا ساءني ولا (سرني) (٨) . قال: فنظروا فإذا حمزة قد بقر بطنه واخذت هند كبده فلاكتها فلم تستطع إن تاكلها، فقال رسول الله ﷺ:"اكلت منه شيئا؟"قالوا: لا، قال:"ما كان الله ليدخل شيئا من حمزة النار"، فوضع رسول الله ﷺ حمزة (فصلى) (٩) عليه، وجيء برجل من الانصار فوضع إلي جنبه فصلى عليه، فرفع الانصاري وترك حمزة، ثم جيء بآخر فوضعه إلى جنب حمزة فصلى عليه، ثم رفع وترك حمزة حتى صلى عليه يومئذ سبعين صلاة (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ي]: (أنبأنا).
(٢) في [جـ]: (فرد).
(٣) في [أ، ب]: (فقال).
(٤) في [ي]: (يرحم).
(٥) سقط من: [جـ، ي].
(٦) في [أ، ب]: (مشا).
(٧) في [هـ]: زيادة (لعن).
(٨) في [أ، ب]: (يسر نحو).
(٩) في [ص، ي]: (فصل).
(١٠) منقطع؛ الشعبي لم يسمع من ابن مسعود، أخرجه أحمد (٤٤١٤)، وابن سعد ٣/ ١٦، وعبد الرزاق (٦٦٥٣).

حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ احد کے دن مسلمانوں کے پیچھے عورتیں تھیں جو مشرکین کے زخمیوں کو مار رہی تھیں۔ پس اگر میں اس دن قسم کھاتا تو میں حانث نہ ہوتا کہ: ہم میں سے کوئی ایک بھی دنیا کا ارادہ نہیں کرتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ { مِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَنْ یُرِیدُ الآخِرَۃَ، ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ } ٢۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے اختلاف کیا اور حکم کے برخلاف عمل کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نو (٩) افراد کے درمیان… جن میں سے سات انصاری اور دو قریشی تھے … خالی چھوڑ دیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان افراد میں دسویں تھے۔ پھر جب مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہیں ہم سے دور کر دے۔ راوی کہتے ہیں: انصار میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے کچھ دیر قتال کیا یہاں تک کہ وہ قتل ہوگئے پھر مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈھانپ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم کرے جو انہں ی (مشرکین کو) ہم سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات مسلسل کہتے رہے یہاں تک کہ سات افراد قتل ہوگئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دو ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ ٣۔ پھر ابو سفیان آیا اور اس نے کہا۔ ہُبل بلند ہو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم (صحابہ) کہو۔ اللہ تعالیٰ بلند ہے اور بزرگی والا ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ ہمارے لئے عُزّی ہے اور تمہارے لئے کوئی عُزّی نہیں ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (صحابہ سے) فرمایا: تم کہو: اللہ ہمارا مولیٰ ہے اور کافروں کا کوئی مولیٰ نہیں ہے۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ (یہ) دن بدر کے دن کے بدلہ میں ہے۔ ایک دن ہمارے حق میں اور ایک دن ہمارے خلاف ہے ایک دن ہمارے ساتھ بُرا ہوتا ہے اور ایک دن ہمیں خوش کردیا جاتا ہے۔ حنظلہ کا قتل حنظلہ کے بدلہ میں ہے اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں۔ اور فلاں، فلاں کے بدلہ میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (جواباً) ارشاد فرمایا: یہ برابری نہیں ہے۔ بہرصورت ہمارے جو مقتولین ہیں۔ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے اور تمہارے مقتولین جہنم میں عذاب دیئے جا رہے ہیں۔ ٤۔ پھر ابو سفیان نے کہا۔ لوگوں میں مثلہ کا عمل (پایا گیا) ہے اگرچہ یہ مجھ سے مشورہ کئے بغیر ہوا ہے۔ نہ میں نے حکم دیا ہے اور نہ میں نے منع کیا ہے۔ نہ میں نے (اس کو) پسند کیا ہے اور نہ میں نے ناپسند کیا ہے۔ اور یہ چیز نہ تو مجھے بُری محسوس ہوئی ہے اور نہ ہی اچھی محسوس ہوئی ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر لوگوں نے دیکھا کہ حضرت حمزۃ کا پیٹ چاک کردیا گیا ہے اور ہندہ نے آپ کا کلیجہ لیا اور اس کو چبایا۔ لیکن وہ کلیجہ نہ کھا سکی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ہندہ نے کلیجہ میں سے کچھ کھایا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حمزہ کی کسی چیز کو جہنم میں داخل کرنا نہیں چاہا۔ ٥۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حمزہ (کی میت) کو رکھا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی اور پھر ایک انصاری صاحب (مقتول صحابی) کو لایا گیا اور انہیں حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھی پھر انصاری کی میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی میت رہنے دی گئی اور پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میت پر نماز جنازہ پڑھی۔ پھر دوسری میت اٹھا دی گئی اور حضرت حمزہ کی رہنے دی گئی پھر ایک اور میت لائی گئی اور اس کو حضرت حمزہ کے پہلو میں رکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی پھر یہ میت اٹھا لی گئی اور حضرت حمزہ کو رہنے دیا گیا۔ یہاں تک کہ ا س دن حضرت حمزہ پر ستر مرتبہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39547، ترقيم محمد عوامة 37938)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39547 in Urdu