مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
37. غزوة حنين وما جاء فيها
غزوہ حنین کے بارے میں منقول احادیث
ترقیم عوامۃ: 38141 ترقیم الشثری: -- 39759
٣٩٧٥٩ - حدثنا عفان حدثنا سليم بن اخضر حدثني ابن عون حدثني هشام بن زيد عن انس قال: لما كان يوم حنين جمعت هوازن وغطفان للنبي ﷺ جمعا كثيرا، والنبي ﷺ يومئذ في عشرة آلاف او اكثر من عشرة آلاف، ( (قال) (١) : ومعه الطلقاء) (٢) ، قال: فجاؤوا (بالنفر) (٣) والذرية، (فجعلوا) (٤) خلف ظهورهم، قال: فلما التقوا ولى الناس، والنبي ﷺ يومئذ على بغلة بيضاء، قال: فنزل فقال:"إني عبد الله ورسوله"، قال: ونادى يومئذ (نداءين لم يخلط) (٥) بينهما (كلاما) (٦) ، فالتفت عن يمينه فقال:"اي معشر الانصار"، فقالوا: لبيك يا رسول الله، نحن معك، (ثم التفت عن يساره فقال:"اي معشر الانصار"، فقالوا: لبيك يا رسول الله نحن معك) (٧) ، ثم نزل إلى الارض، فالتقوا فهزموا واصابوا من الغنائم، فاعطى النبي ﷺ الطلقاء وقسم فيها، فقالت الانصار: ندعى عند الشدة وتقسم الغنيمة لغيرنا، فبلغ ذلك النبي ﷺ فجمعهم وقعد في قبة فقال:"اي معشر الانصار (ما حديث) (٨) بلغني عنكم؟" فسكتوا، (فقال) (٩) :"يا معشر الانصار! لو ان الناس (سلكوا) (١٠) (واديا) (١١) (وسلكت) (١٢) الانصار شعبا ⦗٩٢⦘ لاخذت شعب الانصار"، ثم (قال) (١٣) :"اما ترضون ان يذهب الناس بالدنيا (وتذهبون) (١٤) برسول الله تحوزونه إلى بيوتكم"، فقالوا: رضينا (رضينا) (١٥) (يا رسول) (١٦) الله، قال: ابن عون قال هشام بن زيد: قلت: لانس وانت شاهد ذلك؟ قال: واين اغيب عن ذلك (١٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (قالوا).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [أ، ب]: (والبقر).
(٤) في [أ، ب]: (فجعلوه).
(٥) في [ب]: (نداء من لم يخطط).
(٦) في [ع]: (كلام).
(٧) سقط من: [أ، ب].
(٨) سقط من: [ب].
(٩) سقط من: [ع].
(١٠) سقط من: [أ، ب].
(١١) سقط من: [ع].
(١٢) في [ع]: (أرسكت).
(١٣) في [ي]: (قالوا).
(١٤) في [ط، ق، هـ]: (وتذهبوا).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [ب]: (برسول).
(١٧) صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٣٣٣)، ومسلم (١٠٥٩).
حضرت انس سے روایت ہے کہ جب حنین کا دن تھا تو قبیلہ ہوازن اور غطفان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ایک بہت بڑی تعداد جمع کرلی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس دن دس ہزار یا دس ہزار سے بھی زیادہ کی تعداد کے ہمراہ تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ طلقاء (فتح مکہ کے موقع کے مسلمان) بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں: دشمن اپنے مال مویشی اور بیوی بچوں کو ساتھ لایا تھا اور انہیں اپنے پیچھے چھوڑا ہوا تھا۔ پس جب دونوں گروہوں کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی تو کچھ لوگ بھاگ گئے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن ایک سفید خچر پر سوار تھے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (خچر سے) نیچے اترے اور فرمایا: ”میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: اس دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مرتبہ (یہ) آواز لگائی اور ان کے درمیان کوئی اور کلام مخلوط نہیں فرمایا چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دائیں طرف رُخ کیا اور آواز لگائی۔ ”اے گروہ انصار!“ انصار نے جواب میں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم حاضر ہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بائیں طرف رُخ کیا اور آواز دی، اے گروہ انصار!“ انصار نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم حاضر ہیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمین پر اترے اور (دوبارہ) آمنا سامنا ہوا تو دشمن شکست خوردہ ہوا اور مسلمانوں کو بہت سی غنیمتیں ملیں۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ غنائم طلقاء کو عطا فرمائیں اور ان میں تقسیم کردیں۔ (اس پر) انصار نے کہا۔ سختی کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور غنیمتیں ہمارے سوا اوروں کو تقسیم کی جاتی ہیں۔ یہ بات جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام انصار کو جمع فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان کے ساتھ) ایک قبہ میں بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: ”اے گروہ انصار! مجھے تمہاری طرف سے کیا بات پہنچی ہے؟“ انصار صحابہ خاموش رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے گروہ انصار! اگر لوگ ایک کشادہ اور صاف راستہ پر چلیں اور انصار ایک پہاڑی گھاٹی پر چلیں تو میں انصار کی گھاٹی کو (چلنے کے لئے) پکڑوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا (کا سامان) لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو لے جاؤ اور اپنے گھروں میں پناہ دو؟“ انصار کہنے لگے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم راضی ہیں، ہم راضی ہیں۔ ابن عون کہتے ہیں کہ ہشام بن زید کہتے ہیں میں نے حضرت انس سے پوچھا۔ آپ اس وقت حاضر تھے۔ انہوں نے جواب دیا۔ تو میں اس وقت کہاں غائب ہوتا؟۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39759]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39759، ترقيم محمد عوامة 38141)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39759 in Urdu