مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
45. (ما جاء في) خلافة عثمان وقتله ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت اور آپ کے قتل کے بارے میں احادیث
ترقیم عوامۃ: 38234 ترقیم الشثری: -- 39862
٣٩٨٦٢ - حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون عن الحسن قال: انباني وثاب (وكان) (١) ممن ادركه عتق امير المؤمنين عمر، وكان (يكون) (٢) بعد بين يدي عثمان، قال: فرايت في حلقه (٣) طعنتين، كانهما كيتان طعنهما يوم الدار دار عثمان، قال: بعثني امير المؤمنين عثمان، قال: ادع لي الاشتر فجاء، قال ابن عون: اظنه قال: فطرحت لامير المؤمنين وسادة (٤) . ⦗١٧٤⦘ فقال: يا اشتر! ما يريد الناس مني؟ قال: ثلاثا ليس (٥) من إحداهن بد، يخيرونك بين ان تخلع لهم امرهم وتقول: هذا امركم، اختاروا له من شئتم، وبين ان تقص من نفسك، فإن ابيت (هاذين) (٦) فإن القوم (قاتلوك، قال: ما من إحداهن بد؟ قال: ما من إحداهن بد، قال: اما) (٧) ان اخلع لهم امرهم فما كنت اخلع سربالا (سربلنيه) (٨) الله ﷿ ابدا. قال ابن عون: وقال غير الحسن: لان اقدم فيضرب عنقي احب إلي من ان اخلع امر امة محمد (٩) بعضها عن بعض، قال ابن عون: (وهذا اشبه) (١٠) بكلامه. (ولان) (١١) اقص لهم من نفسي، فوالله لقد علمت، ان صاحبي بين يدي كانا يقصان من (انفسهما) (١٢) ، وما يقوم بدني بالقصاص، واما ان يقتلوني، فوالله لو قتلوني لا يتحابون بعدي ابدا، ولا يقاتلون بعدي عدوا جميعا ابدا، قال: فقام الاشتر وانطلق، فمكثنا فقلنا: لعل الناس. ثم جاء (رويجل) (١٣) كانه (ذئب) (١٤) (فاطلع) (١٥) من الباب، ثم رجع ⦗١٧٥⦘ (وقام) (١٦) محمد بن ابي بكر في ثلاثة عشر حتى انتهى إلى عثمان، فاخذ بلحيته فقال: بها حتى سمعت وقع اضراسه، وقال: ما اغنى عنك معاوية، ما اغنى عنك ابن عامر، ما (اغنت) (١٧) عنك كتبك، فقال: ارسل لي لحيتي ابن اخي، ارسل لي لحيتي ابن اخي، قال: فانا رايته (١٨) استعدى رجلا من القوم (يعينه) (١٩) ، فقام إليه بمشقص حتى وجا به في راسه (فاثبته) (٢٠) ، (قال) (٢١) : ثم (مه؟) (٢٢) (قال) (٢٣) : ثم دخلوا عليه حتى قتلوه (٢٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فكان).
(٢) سقط من: [جـ].
(٣) في [هـ]: زيادة (أثر).
(٤) في [هـ]: زيادة (وله وسادة).
(٥) في [هـ]: زيادة (لك).
(٦) في [ق، هـ]: (هاتين).
(٧) في [هـ]: تكرر.
(٨) في [أ، ب]: (ستبنيه).
(٩) في [جـ]: زيادة ﷺ.
(١٠) سقط من: [هـ].
(١١) في [ع]: (ولين)، وفي [هـ]: (ولا اْن).
(١٢) في [ع]: (أنفسهم).
(١٣) في [أ، ب]: (ويجل).
(١٤) في [أ، ب]: (قلد).
(١٥) في [أ، ب]: (واطلع).
(١٦) في [جـ، ع]: (وقال).
(١٧) في [ع]: (أغنى).
(١٨) في [أ، ب]: زيادة (واللَّه).
(١٩) في [س]: (بعينه).
(٢٠) في [ع]: (فأثبت).
(٢١) سقط من: [ع].
(٢٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (مر).
(٢٣) سقط من: [أ، ب، جـ، س].
(٢٤) مجهول؛ لجهالة وثاب، أخرجه ابن سعد ٣/ ٧٢، وابن شبه (٢٣٥٩)، وخليفة بن خياط في التاريخ ص ١٧٤، والطبراني (١١٦)، وابن عساكر ٣٩/ ٤٠٤، وابن جرير في التاريخ ٢/ ٦٦٤.
حضرت حسن سے روایت ہے کہ مجھے وثَّاب نے بیان کیا۔ اور یہ وثاب راوی کہتے ہیں۔ میں نے اس کے حلق میں تیر کے دو نشانات تھے۔ حضرت عثمان کے گھر میں محاصر ہ کے دن یہ نیزے انہیں مارے گئے تھے۔ یہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امیر المؤمنین حضرت عثمان نے بھیجا اور فرمایا: اشتر کو میرے پاس لاؤ۔ ابن عون کہتے ہیں: میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا۔ کہ اس نے امیر المؤمنین کے پاس تکیہ چھوڑ دیا۔ اور اس کے پاس تکیہ تھا۔ پس حضرت عثمان نے فرمایا۔ اے اشتر! (باغی) لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ اشتر نے کہا۔ تین باتیں ہیں جن میں سے کسی ایک کا کرنا ضروری ہے۔ وہ لوگ آپ کو اس بات کا اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ ان کی حکمرانی ان کے حوالہ کردیں اور یہ کہہ دیں کہ یہ تمہاری حکمرانی ہے تم جس کو چاہو یہ حکمرانی سونپ دو۔ اور یا یہ ہے کہ آپ اپنے سے بدلہ لینے کا موقع دیں۔ پس اگر آپ ان دونوں باتوں سے انکار کرتے ہیں تو پھر لوگ آپ سے لڑیں گے۔ حضرت عثمان نے پوچھا۔ کیا ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے؟ اشتر نے کہا (جی) ان میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا ضروری ہے۔ ٢۔ حضرت عثمان نے فرمایا۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں ان کی حکمرانی کی ذمہ داری چھوڑ دوں۔ تو (سنو) میں وہ کبھی کرتا نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنایا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں۔ حسن کے علاوہ دوسرا راوی بیان کرتا ہے کہ: اگر مجھے یوں پیش کیا جائے کہ میری گردن اڑا دی جائے تو بھی مجھے یہ بات اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ لوگوں کے درمیان چھوڑ دوں۔ ابن عون کہتے ہیں: یہ بات آپ کے کلام سے ملتی جلتی ہے۔ اور رہی یہ بات کہ میں لوگوں کو خود سے بدلہ لینے کا موقع دوں تو خدا کی قسم! میں جانتا ہوں کہ مجھ سے پہلے میرے دو ساتھی (لوگوں کو) اپنے آپ سے بدلہ لینے کا موقع دیتے تھے۔ لیکن میرا جسم قصاص کے لئے کھڑا نہیں ہوگا۔ اور یہ بات کہ لوگ مجھے قتل کریں گے تو خدا کی قسم (یاد رکھو) اگر وہ لوگ مجھے قتل کردیں تو پھر میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہیں کرسکیں گے۔ اور نہ ہی میرے بعد دشمن کے خلاف کبھی سارے اکٹھے ہو کر جہاد کرسکیں گے۔ ٣۔ راوی کہتے ہیں۔ پھر اشتر اٹھ کر چل پڑا۔ ہم وہیں ٹھہرے اور ہم کہنے لگے۔ ہوسکتا ہے کہ لوگ واپس پیچھے چلے جائیں۔ پھر رویجل آیا۔ یوں لگتا تھا کہ وہ بھیڑیا ہے۔ اور اس نے دروازے سے جھانکا اور واپس ہوگیا۔ پھر محمد بن ابی بکر تیرہ افراد کے ہمراہ کھڑا ہوا اور حضرت عثمان کے پاس پہنچا اور آپ کی داڑھی کو پکڑ لیا اور وہ کہہ رہا تھا۔ تمہیں معاویہ نے کوئی فائدہ نہیں دیا! تمہیں ابن عامر نے کوئی فائدہ نہیں دیا! تمہیں تمہارے لشکروں نے کوئی فائدہ نہیں دیا۔ حضرت عثمان نے کہا۔ اے بھتیجے! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ اے بھتیجے! میری داڑھی تو چھوڑ دے۔ ٤۔ راوی کہتے ہیں: میں نے اس کو دیکھا کہ اس نے (اپنی) قوم میں سے ایک آدمی سے مدد مانگی تو اس کے پاس ایک آدمی چوڑے پھل والا نیزہ لے کر آیا اور اس کے ذریعہ سے حضرت عثمان کے سر پر زور لگا کر اس کو آپ کے سر میں اتار دیا۔ راوی (سے) پوچھا۔ پھر کیا ہوا؟ راوی نے جواب دیا۔ پھر یہ باغی حضر ت عثمان پر داخل ہوئے اورا نہیں قتل کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39862]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39862، ترقيم محمد عوامة 38234)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39862 in Urdu