مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
46. ما جاء في خلافة علي بن أبي طالب ﵁
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارے میں
ترقیم عوامۃ: 38252 ترقیم الشثری: -- 39880
٣٩٨٨٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الاجلح عن الشعبي قال: اكتنف عبد الرحمن بن ملجم وشبيب الاشجعي عليا حين خرج إلى الفجر، فاما شبيب فضربه فاخطاه (وثبت) (١) سيفه في الحائط ثم (احصر) (٢) نحو ابواب (كندة) (٣) ، وقال الناس: عليكم صاحب السيف؛ فلما خشي ان يؤخذ رمى بالسيف ودخل في (عرض) (٤) الناس، واما عبد الرحمن فضربه (بالسيف) (٥) على قرنه، (ثم) (٦) (احصر) (٧) نحو باب الفيل؛ فادركه عريض او عويض الحضرمي فاخذه فادخله على علي، فقال علي: إن انا مت فاقتلوه، (٨) إن شئتم اودعوه، وإن انا نجوت كان القصاص (٩) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (فثبت).
(٢) في [أ، ب، جـ، س]: (أحضر).
(٣) في [أ، ب]: (كنك)
(٤) في [ع]: (عوض).
(٥) في [ب]: (السيف).
(٦) سقط من: [ب].
(٧) في [ع]: (أحضر).
(٨) في [هـ]: زيادة (و).
(٩) حسن؛ الأجلح بن عبد اللَّه بن حجية صدوق.
حضرت شعبی سے روایت ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ فجر کے لئے نکلے تو عبد الرحمن بن ملجم نے اور شبیب اشجعی نے آپ کو گھیر لیا۔ پس شبیب نے آپ پر وار کیا لیکن وہ خطا ہوگیا اور اس کی تلوار دیوار میں جا لگی پھر اس کو کندہ کے دروازوں کی طرف محصور کردیا گیا اور لوگ کہنے لگے۔ تلوار والے کو پکڑو پس جب شبیب نے پکڑے جانے کا خوف محسوس کیا تو اس نے تلوار پھینک دی اور عام لوگوں میں داخل ہوگیا۔ اور جو عبد الرحمان تھا اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر مبارک پر تلوار ماری پھر اس کو بھی باب الفیل کی جانب محصور کرلیا گیا اور اس کو عریض یا عویض حضرمی نے پکڑ لیا۔ پس اس کو پکڑ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لائے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا۔ اگر میں مر جاؤں تو تم چاہو تو اس کو قتل کردینا۔ یا اس کو چھوڑ دینا اور اگر میں بچ گیا تو پھر قصاص ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب المغازي/حدیث: 39880]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 39880، ترقيم محمد عوامة 38252)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 39880 in Urdu