🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما ذكر في عثمان ﵁
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے بیان میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38891 ترقیم الشثری: -- 40537
٤٠٥٣٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: اخبرنا شريك عن ابي اليقظان عن زاذان عن (عليم) (١) قال: كنا معه على سطح ومعه رجل من اصحاب النبي ﷺ في ⦗٤٥٩⦘ ايام الطاعون، فجعلت (الجنائز) (٢) تمر، فقال: يا طاعون خذني، قال: فقال (عليم) (٣) : الم يقل رسول الله ﷺ:"لا (يتمنين) (٤) احدكم الموت، فإنه عند انقطاع عمله، ولا يرد فيستعتبه"، فقال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"بادروا بالموت ستا: امرة السفهاء، وكثرة الشرط، وبيع الحكم، و (استخفافا) (٥) بالدم، (ونشوءا) (٦) يتخذون القرآن مزامير، يقدمونه ليغنيهم (وإن) (٧) كان اقلهم فقها" (٨) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عالم)، وفي [س]: (عليم).
(٢) في [هـ]: (الخنازير).
(٣) في [س]: (غليم).
(٤) في [ع]: (يتمنى).
(٥) في [أ، ب]: (استحقاق)، وفي [س، ع]: (استحقاف).
(٦) في [أ، ب، ع]: (وسوء).
(٧) في [ب]: (وإلا).
(٨) ضعيف؛ لضعف عثمان بن عمير أبي اليقظان، أما عليم الكندي فقد ذكره ابن حبان في الثقات وروى عنه جمع، والحديث أخرجه أحمد ٣/ ٤٩٤ (١٦٠٨٣)، والبخاري في التاريخ ٧/ ١٨٠، وأبو عبيد في فضائل القرآن ص ٨٠، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٠٢٤) والديات ص ١٤، والحارث (٦١٣/ بغية)، والطبراني ١٨/ (٥٧)، وابن قانع ٢/ ٣١٠، والبيهقي في الشعب (٢٦٥٤)، والطحاوي في شرح المشكل ٤/ ٥، والداني (٤٣٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٨/ ١٤٧، وابن الجوزي في العلل (١٤٨٢)، وابن الأثير في أسد الغابة ٣/ ٥٣٨.

زاذان علیم سے روایت کرتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ چھت پر تھے اور ان کے ساتھ ایک صحابی بھی تھے۔ طاعون کے دنوں میں پس ہمارے پاس سے جنازے گزرنے شروع ہوئے تو اس نے کہا کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تم میں سے کوئی موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ موت اعمال کے منقطع ہونے کا باعث ہے اور انسان کو لوٹا یا نہیں جاتا کہ وہ اللہ کو راضی کرے۔ پس انہوں نے فرمایا میں نے رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم چھ چیزوں کی وجہ سے موت کو جلدی طلب کرو، بیوقوفوں کی امارت کی وجہ سے، بادشاہوں کے خاص سپاہیوں کے زیادہ ہوجانے کی وجہ سے، فیصلوں کے بکنے کی وجہ سے اور خون ارزاں ہونے کی وجہ سے اور قرآن کو بانسریاں بنانے والے نو عمر لڑکوں کی وجہ سے جنھیں لوگ نماز میں اس لیے آگے کریں گے تاکہ وہ انہیں قرآن کو گانے کے انداز میں سنائے حالانکہ وہ اپنی فہم میں سب سے کم تر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الفتن/حدیث: 40537]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40537، ترقيم محمد عوامة 38891)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40537 in Urdu