مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
190. في الإمام يؤم القوم وهم له كارهون
اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 4135 ترقیم الشثری: -- 4157
٤١٥٧ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر ان سلمان قدمه قوم يصلي بهم فابى (حتى دفعوه) (١) ، فلما صلى بهم قال: اكلكم راض؟ قالوا: نعم. قال: الحمد لله، إني سمعت رسول الله ﷺ (يقول) (٢) :"ثلاثة لا (تقبل) (٣) صلاتهم: المراة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فدفعوه).
(٢) تكرار يقول في [جـ].
(٣) في [أ]: (يقبل).
(٤) ضعيف جدًا منقطع، وهم أبو أسامة في قوله ابن جابر وإنما هو ابن تميم، وابن تميم ضعيف جدًا، والقاسم لا رواية له عن سلمان، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٤٥٣).
حدثنا ابو اسامة ، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر، ان سلمان قدمه قوم يصلي بهم، فابى حتى دفعوه فلما صلى بهم، قال: اكلكم راض؟ قالوا: نعم، قال: الحمد لله، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ثلاثة لا تقبل صلاتهم: المراة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون"
حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لئے آگے کیا، انہوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انہیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو؟ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تما م تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہرجائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4157، ترقيم محمد عوامة 4135)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 4157 in Urdu