مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
190. في الإمام يؤم القوم وهم له كارهون
اگر لوگ کسی کی امامت سے خوش نہ ہوں تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 4129 ترقیم الشثری: -- 4151
٤١٥١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن اشعث بن ابي الشعثاء قال: قيل للاسود بن هلال: تقدم، فقال: اراضون انتم؟.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن اشعث بن ابي الشعثاء، قال: قيل للاسود بن هلال تقدم، فقال: " اراضون انتم"
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت اسود بن ہلال سے کہا گیا کہ آپ آگے بڑھ کر نماز پڑھائیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کیا تم میری امامت سے راضی ہو؟ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4151، ترقيم محمد عوامة 4129)
ترقیم عوامۃ: 4130 ترقیم الشثری: -- 4152
٤١٥٢ - حدثنا وكيع قال: حدثنا (موسى) (١) بن قيس الحضرمي عن العيزار بن جرول: ان قوما شكوا إماما لهم إلى علي، فقال (له علي) (٢) : إنك لخروط تؤم قوما وهم كارهون (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في [د]، وفي بقية النسخ: (أبو موسى).
(٢) في [أ]: (علي له).
(٣) حسن؛ موسى بن قيس صدوق.
حدثنا حدثنا وكيع، قال: حدثنا موسى بن قيس الحضرمي، عن العيزار بن جرول , ان قوما شكوا إماما لهم إلى علي، فقال له علي : " إنك لخروط تؤم قوما وهم كارهون"
حضرت عیزار بن جرول کہتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنے امام کی شکایت کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تم بہت بیوقوف آدمی ہو، تم لوگوں کو نماز پڑھاتے ہو اور وہ تم سے خوش نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4152، ترقيم محمد عوامة 4130)
ترقیم عوامۃ: 4131 ترقیم الشثری: -- 4153
٤١٥٣ - حدثنا وكيع قال: نا ابو عبيدة الناجي عن الحسن قال: قال رسول الله ﷺ:"من ام قوما وهم له كارهون لم تجز صلاته ترقوته" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل ضعيف جدًا؛ وأبو عبيدة الناجي منكر الحديث، أخرجه عبد الرزاق (٣٨٩٣).
حدثنا وكيع ، قال: نا ابو عبيدة الناجي ، عن الحسن ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من ام قوما وهم له كارهون لم تجز صلاته ترقوته"
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کچھ لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت پر راضی نہ ہوں تو اس کی نماز اس کے سر کے اوپر نہیں جاتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4153]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4153، ترقيم محمد عوامة 4131)
ترقیم عوامۃ: 4132 ترقیم الشثری: -- 4154
٤١٥٤ - حدثنا ابن إدريس عن الاعمش (عن المنهال) (١) عن عبد الله بن الحارث قال: ثلاثة لا تجاوز صلاة احدهم راسه: إمام قوم وهم له كارهون، وامراة تعصي زوجها، وعبد ابق من سيده.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة من [أ، ب، جـ، د، ك].
حدثنا ابن إدريس، عن الاعمش، عن المنهال، عن عبد الله بن الحارث، قال: " ثلاثة لا تجاوز صلاة احدهم راسه إمام قوم وهم له كارهون , وامراة تعصي زوجها , وعبد آبق من سيده"
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر کے اوپر بھی نہیں جاتی۔ ایک وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسری وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے۔ تیسرا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4154، ترقيم محمد عوامة 4132)
ترقیم عوامۃ: 4133 ترقیم الشثری: -- 4155
٤١٥٥ - حدثنا جرير عن منصور عن هلال بن يساف عن زياد بن ابي الجعد عن عمرو بن الحارث بن المصطلق قال: كان يقال: اشد الناس عذابا: امراة تعصي زوجها، وإمام قوم وهم (له) (١) كارهون (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب]: (له).
(٢) مجهول؛ لجهالة زياد بن أبي الجعد، أخرجه الترمذي (٣٥٩).
حدثنا حدثنا جرير، عن منصور، عن هلال بن يساف، عن زياد بن ابي الجعد، عن عمرو بن الحارث بن المصطلق ، قال:" كان يقال: اشد الناس عذابا امراة تعصي زوجها , وإمام قوم وهم له كارهون"
حضرت عمرو بن حارث فرماتے ہیں کہ کہا جاتا تھا کہ سب سے زیادہ عذاب ان لوگوں کو ہوگا: وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور وہ امام جس سے لوگ خوش نہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4155، ترقيم محمد عوامة 4133)
ترقیم عوامۃ: 4134 ترقیم الشثری: -- 4156
٤١٥٦ - حدثنا هشيم قال: (حدثنا) هشام بن حسان قال: حدثنا الحسن ان رسول الله ﷺ قال:"ثلاثة لا تقبل لهم صلاة: رجل ام قوما وهم له كارهون، والعبد إذا ابق حتى يرجع إلى مولاه، والمراة إذا باتت مهاجرة لزوجها عاصية له" (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مرسل، أخرجه عبد الرزاق (٣٨٩٣).
حدثنا هشيم ، قال: حدثنا هشام بن حسان ، قال: حدثنا الحسن ، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: " ثلاثة لا تقبل لهم صلاة: رجل ام قوما وهم له كارهون، والعبد إذا ابق حتى يرجع إلى مولاه، والمراة إذا باتت مهاجرة لزوجها عاصية له"
حضرت حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی ایسے ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک وہ آدمی جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن وہ اس کی امامت سے خوش نہ ہوں۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے آقا سے بھاگا ہو یہاں تک کہ وہ واپس آجائے۔ وہ عورت جو اپنے خاوند کی نافرمانی کرے اور ناراض ہو کر اس سے الگ رہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4156]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4156، ترقيم محمد عوامة 4134)
ترقیم عوامۃ: 4135 ترقیم الشثری: -- 4157
٤١٥٧ - حدثنا ابو اسامة عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر ان سلمان قدمه قوم يصلي بهم فابى (حتى دفعوه) (١) ، فلما صلى بهم قال: اكلكم راض؟ قالوا: نعم. قال: الحمد لله، إني سمعت رسول الله ﷺ (يقول) (٢) :"ثلاثة لا (تقبل) (٣) صلاتهم: المراة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون" (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (فدفعوه).
(٢) تكرار يقول في [جـ].
(٣) في [أ]: (يقبل).
(٤) ضعيف جدًا منقطع، وهم أبو أسامة في قوله ابن جابر وإنما هو ابن تميم، وابن تميم ضعيف جدًا، والقاسم لا رواية له عن سلمان، أخرجه ابن أبي شيبة في المسند (٤٥٣).
حدثنا ابو اسامة ، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر ، قال: سمعت القاسم بن مخيمرة يذكر، ان سلمان قدمه قوم يصلي بهم، فابى حتى دفعوه فلما صلى بهم، قال: اكلكم راض؟ قالوا: نعم، قال: الحمد لله، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: " ثلاثة لا تقبل صلاتهم: المراة تخرج من بيتها بغير إذنه، والعبد الآبق، والرجل يؤم القوم وهم له كارهون"
حضرت قاسم بن مخیمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان کو کچھ لوگوں نے نماز کے لئے آگے کیا، انہوں نے نماز پڑھانے سے انکار کیا لیکن لوگوں کے اصرار پر انہیں نماز پڑھا دی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت سلمان نے پوچھا کہ کیا تم سب میرے نماز پڑھانے پر راضی ہو؟ انہوں نے کہا ہم راضی ہیں۔ حضرت سلمان نے فرمایا تما م تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، میں نے رسول اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین آدمیوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک وہ عورت جو اپنے گھر سے خاوند کی اجازت کے بغیر باہرجائے، دوسر ا وہ غلام جو اپنے مالک سے بھاگا ہو اور تیسرا وہ شخص جو لوگوں کو نماز پڑھائے اور وہ اس سے راضی نہ ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4157، ترقيم محمد عوامة 4135)
ترقیم عوامۃ: 4136 ترقیم الشثری: -- 4158
٤١٥٨ - حدثنا علي بن [حسن] (١) بن شقيق عن حسين بن واقد عن ابي غالب عن ابي امامة قال: قال رسول الله ﷺ:"ثلاثة لا تجاوز صلاتهم رؤوسهم حتى يرجعوا؛ العبد الآبق، وامراة باتت وزوجها عليها ساخط، وإمام قوم وهم له كارهون" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (حسين).
(٢) ضعيف؛ لضعف أبي غالب، أخرجه الترمذي (٣٦٠)، والطبراني (٨٠٩)، والبغوي (٨٣٨).
حدثنا علي بن حسن بن شقيق ، عن حسين بن واقد ، عن ابي غالب ، عن ابي امامة ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ثلاثة لا تجاوز صلاتهم رءوسهم حتى يرجعوا: العبد الآبق، وامراة باتت وزوجها عليها ساخط، وإمام قوم وهم له كارهون"
حضرت ابو امامہ فرماتے ہیں کہ تین آدمیوں کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی: ایک وہ غلام جوا پنے مالک سے بھاگا ہو، دوسری وہ عورت جو اس حال میں رات گذارے کے اس کا خاوند اس سے ناراض ہو اور تیسرا وہ امام جو لوگوں کو نماز پڑھائے لیکن لوگ اس سے راضی نہ ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصلوات/حدیث: 4158]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4158، ترقيم محمد عوامة 4136)