یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
33. باب دعاء الاستفتاح بعد التكبير
باب: تکبیر کے بعد نماز کے آغاز کی دعا۔
ترقیم العلمیہ : 1124 ترقیم الرسالہ : -- 1139
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْبَغْدَادِيُّ ، ثنا أَبُو حَيْوَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، ثنا شُرَيْحُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو حَيْوَةَ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلاةَ، قَالَ:" إِنَّ صَلاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ اهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ وَأَحْسَنِ الأَعْمَالِ لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَقِنِي سِيِّئَ الأَخْلاقِ وَالأَعْمَالِ لا يَقِي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ" . قَالَ شُعَيْبٌ: قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ وَغَيْرُهُ مِنْ فُقَهَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ: إِنْ قُلْتَ أَنْتَ هَذَا الْقَوْلَ فَقُلْ: وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَاللَّفْظُ لِعَبْدِ الْكَرِيمِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو یہ پڑھتے تھے: ”بیشک میری نماز میری قربانی، میری زندگی، میری موت اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے، اور میں سب سے پہلے مسلمان ہوں، اے اللہ! اچھے اخلاق کی طرف اور اچھے اعمال کی طرف میری راہنمائی کر، اچھے اخلاق اور اچھے اعمال کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، برے اخلاق اور برے اعمال سے مجھے بچا لے ان سے صرف تو ہی بچا سکتا ہے۔“ شعیب نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: محمد بن منکدر اور دیگر فقہاء نے مجھے یہ کہا: ”اگر تم یہ الفاظ بھی پڑھ لو تو بہتر ہو گا، اور میں مسلمان ہوں۔“ روایت کے یہ الفاظ عبدالکریم نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1139]
ترقیم العلمیہ: 1124
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 895، برقم: 897، 1051، 1127، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 643، 717، 972، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2388، 2389، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1139، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 515، 516»
«قال البيهقي: واختلف عليه فيه وليس له إسناد قوي، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 202)»
«قال البيهقي: واختلف عليه فيه وليس له إسناد قوي، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 202)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1139 in Urdu
محمد بن المنكدر القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري