سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
35. باب ما يجزيه من الدعاء عند العجز عن قراءة فاتحة الكتاب
باب: جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا؟
ترقیم العلمیہ : 1181 ترقیم الرسالہ : -- 1195
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ ، وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ ، وَأَبُو شَيْبَةَ ، قَالا: نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا مِسْعَرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ لا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا يُجْزِينِي مِنَ الْقُرْآنِ فَإِنِّي لا أَقْرَأُ، قَالَ:" قُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ"، قَالَ: فَضَمَّ عَلَيْهَا بِيَدِهِ، وَقَالَ: هَذَا لِرَبِّي فَمَا لِي؟ قَالَ:" قُلِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي"، فَضَمَّ بِيَدِهِ الأُخْرَى وَقَامَ .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ وہ قرآن مجید کو یاد نہیں کر سکتا۔ ابن عیینہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ایسی چیز کی تعلیم دیں جو میرے لیے قرآن کی جگہ ہو کیونکہ میں قراءت نہیں کر سکتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ دعا پڑھو: ’اللہ تعالیٰ پاک ہے ہر طرح کی حمد اللہ کے لیے مخصوص ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اللہ سب سے بڑا ہے اور اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔‘“ راوی بیان کرتے ہیں: اس نے اپنی انگلیاں بند کر کے (ان کلمات کو یاد کیا) اور پھر بولا: ”یہ تو میرے پروردگار کی تعریف کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طور پر) کیا ہو گا؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ دعا مانگو: ’اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے تو مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے رزق عطا کر اور تو مجھے عافیت نصیب کر۔‘“ (راوی کہتے ہیں) تو اس نے دوسرے ہاتھ کی انگلیاں بند کر کے (ان کلمات کو یاد کیا) اور اٹھ کر (چل دیا)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1195]
ترقیم العلمیہ: 1181
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 544 وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1808 والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 887 والنسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 923، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 832، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4046، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1195، 1196، 1197 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19416 والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 734، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" 524، قال ابن حجر: فيه إبراهيم السكسكي وهو من رجال البخاري ولكن عيب عليه إخراج حديثه وضعفه النسائي وقال ابن القطان ضعفه قوم فلم يأتوا بحجة التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:426/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808 والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 923
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي