سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
35. باب ما يجزيه من الدعاء عند العجز عن قراءة فاتحة الكتاب
باب: جو شخص (نماز میں) سورة فاتحہ نہ پڑھ سکتا ہو اس کے لیے کون سی دعا کو پڑھ لینا کافی ہوگا؟
ترقیم العلمیہ : 1182 ترقیم الرسالہ : -- 1196
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَلَيْسَ، بِالنَّخَعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنَّ رَجُلا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَعَلَّمَ الْقُرْآنَ فَمَا يُجْزِينِي فِي صَلاتِي، قَالَ:" تَقُولُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلا بِاللَّهِ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"، قَالَ: هَذَا لِلَّهِ فَمَا لِي؟ قَالَ:" تَقُولُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي وَعَافِنِي"، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ مَلأَ يَدَيْهِ مِنَ الْخَيْرِ وَقَبَضَ كَفَّيْهِ" .
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میں قرآن نہیں سیکھ سکتا تو نماز میں میرے لیے کیا پڑھنا کافی ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم یہ پڑھو: ’اللہ کی ذات پاک ہے تمام تعریفیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں اللہ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اور اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔‘“ اس شخص نے عرض کیا: ”یہ تو اللہ کے لیے ہے میرے لیے (دعا کے طور پر) کیا ہو گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ پڑھو: ’اے اللہ! تو میری مغفرت کر دے! تو مجھ پر رحم کر! تو مجھے رزق عطا کر، تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ تو مجھے عافیت نصیب کر۔‘“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص نے اپنے دونوں ہاتھ بھلائی سے بھر لیے ہیں۔“ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لی تھیں (یعنی انگلیوں پر ان کلمات کو گن کر ہاتھ بند کیا تھا)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1196]
ترقیم العلمیہ: 1182
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 544 وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1808 والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 887 والنسائي فى ((المجتبيٰ)) برقم: 923، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 832، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4046، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1195، 1196، 1197 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19416 والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 734، وعبد بن حميد فى "المنتخب من مسنده" 524، قال ابن حجر: فيه إبراهيم السكسكي وهو من رجال البخاري ولكن عيب عليه إخراج حديثه وضعفه النسائي وقال ابن القطان ضعفه قوم فلم يأتوا بحجة التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير:426/1»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى" 211 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 544 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1808 والحاكم فى «مستدركه» برقم: 887 والنسائي فى «المجتبيٰ» برقم: 923
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبد الرحمن السكسكي ← عبد الله بن أبي أوفى الأسلمي