سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
37. باب وجوب قراءة أم الكتاب فى الصلاة وخلف الإمام
باب: نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
ترقیم العلمیہ : 1195 ترقیم الرسالہ : -- 1210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ ، مِنْ كِتَابِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا أبِي، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، فَقَالَ:" اقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ كُنْتُ أَنَا، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ جَهَرْتُ" . رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ (امام) آپ ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اگرچہ (امام) میں ہوں۔“ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”اگرچہ میں بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوں (پھر بھی تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو)۔“ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1210]
ترقیم العلمیہ: 1195
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 880، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2976، 2977، 2978، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2776، 2777، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3769، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1303»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات، سنن الدارقطني: (2 / 95) برقم: (1210)»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات، سنن الدارقطني: (2 / 95) برقم: (1210)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1210 in Urdu
إبراهيم بن محمد الهمداني ← عمر بن الخطاب العدوي