🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

37. بَابُ وُجُوبِ قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ وَخَلَفَ الْإِمَامِ
باب: نماز میں سورة فاتحہ پڑھنا واجب ہے اور امام کی اقتداء میں (سورة فاتحہ پڑھنا)
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1194 ترقیم الرسالہ : -- 1209
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي مُوسَى النَّهْرُتِيرِيُّ حَدَّثَهُمْ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ ، ثنا فَيْضُ بْنُ إِسْحَاقَ الرَّقِّيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى صَلاةً مَكْتُوبَةً مَعَ الإِمَامِ فَلْيَقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي سَكَتَاتِهِ، وَمَنِ انْتَهَى إِلَى أُمِّ الْقُرْآنِ فَقَدْ أَجْزَأَهُ" . مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص امام کے ساتھ نماز ادا کرے اسے امام کے سکتہ کے دوران سورہ فاتحہ پڑھ لینی چاہیے اور جو شخص سورت مکمل پڑھ لے تو ایسا کرنا ہی اس کے لیے کافی ہو گا۔ محمد بن عبداللہ بن عبید نامی راوی ضعیف ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1209]
ترقیم العلمیہ: 1194
تخریج الحدیث: «إسناده ضعیف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 395، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 278، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 489، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 776، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 875، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 908، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 821، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2953، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 838، 3784، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1189، 1209، 1224، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1003، 1004، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7411»
«قال الدارقطني: ابن سمعان هو عبد الله بن زياد بن سمعان وهو متروك الحديث، سنن الدارقطني: (2 / 84) برقم: (1189)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1195 ترقیم الرسالہ : -- 1210
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الإِصْطَخْرِيُّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ ، مِنْ كِتَابِهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَوْفَلٍ ، ثنا أبِي، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ جَوَّابٍ التَّيْمِيِّ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، فَقَالَ:" اقْرَأْ بِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ، قُلْتُ: وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ كُنْتُ أَنَا، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ: وَإِنْ جَهَرْتُ" . رُوَاتُهُ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ (امام) آپ ہوں؟ تو انہوں نے فرمایا: اگرچہ (امام) میں ہوں۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے دریافت کیا: اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟ تو انہوں نے جواب دیا: اگرچہ میں بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوں (پھر بھی تم سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو)۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1210]
ترقیم العلمیہ: 1195
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 880، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2976، 2977، 2978، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2776، 2777، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3769، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1303»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات، سنن الدارقطني: (2 / 95) برقم: (1210)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1196 ترقیم الرسالہ : -- 1211
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ جَوَّابٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ، قَالَ: قُلْتُ وَإِنْ كُنْتَ أَنْتَ؟ قَالَ:" وَإِنْ كُنْتُ أَنَا"، قُلْتُ: وَإِنْ جَهَرْتَ؟ قَالَ:" وَإِنْ جَهَرْتُ" . هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
یزید بن شریک بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے امام کی اقتداء میں قراءت کرنے کا مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے مجھے ہدایت کی: میں قراءت کر لیا کروں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: خواہ آپ امام ہوں (تو بھی قراءت کر لیا کروں)؟ انہوں نے جواب دیا: خواہ میں امام ہوں (تو تم بھی قراءت کر لیا کرو)۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: اگرچہ آپ بلند آواز سے قراءت کر رہے ہوں؟ انہوں نے جواب دیا: اگرچہ میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں۔ اس کی سند مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1211]
ترقیم العلمیہ: 1196
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 880، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2976، 2977، 2978، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1210، 1211، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 2776، 2777، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 3769، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 1303»
«قال الدارقطني: رواته كلهم ثقات، سنن الدارقطني: (2 / 95) برقم: (1210)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1197 ترقیم الرسالہ : -- 1212
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَتِيقُ ، ثنا إِسْحَاقُ الرَّازِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الرَّازِيِّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، قَالَ: سَأَلْتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ " أَقْرَأُ خَلْفَ الإِمَامِ؟ قَالَ: نَعَمْ" .
عبداللہ بن ہذیل بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا میں امام کے پیچھے قراءت کر لیا کروں؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1212]
ترقیم العلمیہ: 1197
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 2984، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1212،»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1198 ترقیم الرسالہ : -- 1213
ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا الْمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، وَكَانَ يَسْكُنُ إِيلِيَا، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ وَرَاءِ إِمَامِكُمْ"، قَالَ: قُلْنَا: أَجَلْ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا، قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا" . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
سیدنا محمود بن ربیع انصاری جو ایلیاء میں قیام پذیر تھے وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کی آپ کو قراءت کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوئی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کر رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں: ہم نے عرض کیا: اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ایسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو چونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز (کامل) نہیں ہوتی۔ یہ سند ’حسن‘ ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1213]
ترقیم العلمیہ: 1198
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1199 ترقیم الرسالہ : -- 1214
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْعَمِّيُّ ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ:" كَأَنَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفِي؟"، قُلْنَا: أَجَلْ، هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَإِنَّهُ لا صَلاةَ إِلا بِهَا".
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ اسی طرح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: (یوں لگتا ہے) گویا تم میرے پیچھے قراءت کرتے ہو۔ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! تیزی کے ساتھ ہم قراءت کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1214]
ترقیم العلمیہ: 1199
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1200 ترقیم الرسالہ : -- 1215
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1215]
ترقیم العلمیہ: 1200
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1201 ترقیم الرسالہ : -- 1216
أَخْبَرَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مَكْحُولٌ بِهَذَا، وَقَالَ فِيهِ" إِنِّي لأَرَاكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ إِمَامِكُمْ إِذَا جَهَرَ"، قُلْنَا: أَجَلْ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا، قَالَ:" لا تَفْعَلُوا إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ فَإِنَّهُ لا صَلاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِهَا".
یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ منقول ہیں تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میرا خیال ہے تم لوگ اپنے امام کے پیچھے قراءت کرتے ہو جب وہ بلند آواز سے قراءت کر رہا ہوتا ہے۔‘ ہم نے عرض کی: جی ہاں، یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ہم تیزی سے پڑھ لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو کیونکہ جو شخص اسے نہیں پڑھتا اس کی نماز نہیں ہوتی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1216]
ترقیم العلمیہ: 1201
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1202 ترقیم الرسالہ : -- 1217
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ نَافِعٌ : أَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلاةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ، وَكَانَ أَبُو نُعَيْمٍ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَقْبَلَ عُبَادَةُ وَأَنَا مَعَهُ حَتَّى صَفَفْنَا خَلْفَ أَبِي نُعَيْمٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ فَجَعَلَ عُبَادَةُ يَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ لِعُبَادَةَ: قَدْ صَنَعْتَ شَيْئًا فَلا أَدْرِي أَسُنَّةٌ هِيَ أَمْ سَهْوٌ، كَانَتْ مِنْكَ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِ أُمِّ الْقُرْآنِ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ، قَالَ: أَجَلْ، صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ فَالْتَبَسَتْ عَلَيْهِ الْقِرَاءَةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ إِذَا جَهَرْتُ بِالْقِرَاءَةِ؟"، فَقَالَ بَعْضُنَا: إِنَّا لَنَصْنَعُ ذَلِكَ، قَالَ: " فَلا تَفْعَلُوا وَأَنَا أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ فَلا تَقْرَءُوا بِشَيْءٍ مِنَ الْقُرْآنِ إِذَا جَهَرْتُ إِلا بِ أُمِّ الْقُرْآنِ" . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.
سیدنا نافع بن محمود بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ صبح کی نماز میں تاخیر سے پہنچے۔ ابونعیم نامی موذن نے نماز کے لیے اقامت کہہ دی۔ ابونعیم وہ پہلے فرد ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں اذان دی تھی، ابونعیم لوگوں کو نماز پڑھانے لگے اسی دوران سیدنا عبادہ بن صامت آگئے۔ میں ان کے ساتھ تھا، ہم نے ابونعیم کی اقتداء میں صف قائم کر لی۔ ابونعیم نے بلند آواز میں قراءت کرنا شروع کی تو سیدنا عبادہ بھی سورہ فاتحہ پڑھنے لگے۔ (راوی کہتے ہیں) جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو میں نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے ایک ایسا عمل کیا ہے جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ کیا یہ سنت ہے؟ یا آپ نے غلطی سے ایسا کر لیا ہے؟ سیدنا عبادہ نے دریافت کیا: وہ کون سا ہے؟ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کو سورہ فاتحہ پڑھنے ہوئے سنا ہے جبکہ ابونعیم بلند آواز سے قراءت کر رہے تھے۔ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسا ہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قراءت کی جاتی ہے تو اس دوران آپ کو قراءت کرنے میں دشواری ہوئی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ’جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا تھا تو کیا تم بھی قراءت کر رہے تھے؟‘ تو ہم میں سے بعض حضرات نے کہا: ’ہم نے ایسا کیا ہے۔‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’تم ایسا نہ کرو۔ میں بھی یہ سوچ رہا تھا کہ کیا قرآن کے حوالے سے میرے ساتھ مقابلہ کیا جا رہا ہے جب میں بلند آواز میں قراءت کر رہا ہوں تو تم قرآن کی قراءت نہ کیا کرو البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔‘ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1217]
ترقیم العلمیہ: 1202
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1203 ترقیم الرسالہ : -- 1218
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ، بِدِمَشْقَ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنِي غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْهُمْ: سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ مَحْمُودٍ أَبِي نُعَيْمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَلْ تَقْرَءُونَ فِي الصَّلاةِ مَعِيَ؟"، قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" فَلا تَفْعَلُوا إِلا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ" . وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلُهُ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ إِنَّمَا كَانَ أَبُو نُعَيْمٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَيْسَ هُوَ كَمَا قَالَ الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، عَنْ عُبَادَةَ.
ابونعیم بیان کرتے ہیں: سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے: کیا تم لوگ میرے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے قراءت کرتے ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو ہاں البتہ سورہ فاتحہ پڑھ لیا کرو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1218]
ترقیم العلمیہ: 1203
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 756، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 394، 394، 394، 394، وابن الجارود فى "المنتقى"، 206، 351، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 488، 1581، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1782، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 876، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 909، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 822، 823، 824، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 247، 311، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1278، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 837، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1213، 1214، 1215، 1216، 1217، 1218، 1220، 1221، 1222، 1225، 1226، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 211، 643، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 390، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23111»
«قال الدارقطني: وصححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 419)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں