سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
60. باب إدبار الشيطان من سماع الأذان وسجدتي السهو قبل السلام
باب: اذان کی آواز سن کر شیطان کا پیٹھ پھیر کر بھاگنا اور سجدہ سہو سلام سے پہلے کیا جائے گا۔
ترقیم العلمیہ : 1387 ترقیم الرسالہ : -- 1404
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ، قَالُوا: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ ، ثنا عَمِّي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثنا أبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ صَفْوَانَ بْنِ سَلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الزُّرَقِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ خَرَجَ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسْجِدِ لَهُ حُصَاصٌ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ رَجَعَ، فَإِذَا أَقَامَ الْمُؤَذِّنُ الصَّلاةَ خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ وَلَهُ ضُرَاطٌ، فَإِذَا سَكَتَ رَجَعَ حَتَّى يَأْتِي الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ فِي صَلاتِهِ، فَيَدْخُلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ لا يَدْرِي أَزَادَ فِي صَلاتِهِ أَمْ نَقَصَ، فَإِذَا وَجَدَ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ يُسَلِّمُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جب موذن اذان دیتا ہے، تو شیطان مسجد سے نکلتا ہے، اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، جب موذن خاموش ہوتا ہے، تو شیطان واپس آ جاتا ہے، پھر جب موذن اقامت کہتا ہے، تو شیطان پھر مسجد سے نکل جاتا ہے اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، پھر جب موذن خاموش ہو جاتا ہے، تو وہ واپس آ جاتا ہے، وہ مسلمان شخص کے پاس اس کی نماز کے دوران آتا ہے اور اس کے ذہن میں طرح طرح کے خیالات پیدا کرتا ہے، جس کے بعد اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ اس نے نماز میں اضافہ کر دیا ہے یا کمی کر دی ہے، جب کسی شخص کو اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑے، تو جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھنے کے دوران)، وہ دو مرتبہ سجدہ سہو کرے، یہ وہ سلام پھیرنے سے پہلے کرے اور پھر سلام پھیر دے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1404]
ترقیم العلمیہ: 1387
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 608، 1222، 1231، 1232، 3285، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 389، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 223، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 392، 1020، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 16، 1662، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 669، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 516، 1030، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 397، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1240، 1535، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1216، 1217، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1403، 1404، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7406، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 977، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 5958»
«قال ابن حجر: إسناده قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»
«قال ابن حجر: إسناده قوي، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (3 / 124)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي