سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
71. باب قضاء الصلاة بعد وقتها ومن دخل فى صلاة فخرج وقتها قبل تمامها
باب: نماز کا وقت گزرجانے کے بعد قضاء نماز ادا کرنا جو شخص نماز پڑھناشروع کردے اور اسے مکمل کرنے سے پہلے اس کا وقت گزر جائے (اس کا حکم)۔
ترقیم العلمیہ : 1422 ترقیم الرسالہ : -- 1439
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَنَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، قَالا: نا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ جَاءَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلاةَ الْفَجْرِ فَصَلَّى مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ؟"، قَالَ: لَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا قَبْلَ الْفَجْرِ فَسَكَتَ وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا .
یحییٰ بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا بیان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ وہ (مسجد میں) آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھا رہے تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا، تو ان صاحب نے اٹھ کر دو رکعت ادا کیں (جب وہ اس سے فارغ ہوئے)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: ”یہ دو رکعت کون سی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی: میں انہیں فجر سے پہلے ادا نہیں کر سکا تھا (یعنی یہ فجر کی دو سنتیں ہیں)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، آپ نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1439]
ترقیم العلمیہ: 1422
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1116، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1563، 2471، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1022، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1267، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 422، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1154، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4462، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 892، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1439، 1440، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24257»
«قال الترمذي: ضعيف منقطع أو مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 263)»
«قال الترمذي: ضعيف منقطع أو مرسل، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (3 / 263)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سعيد بن قيس الأنصاري ← قيس بن قهد الأنصاري