🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب صفة صلاة الخوف وأقسامها
باب نماز خوف کا طریقہ اور اس کی اقسام
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1753 ترقیم الرسالہ : -- 1777
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الآنَ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، قَالَ: فَنَزَلَ جَبْرَائِيلُ بِهَذِهِ الآيَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ: وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاةَ سورة النساء آية 102، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السِّلاحَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، قَالَ: وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ، قَالَ: ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ الآخَرُونَ سَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَصَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ" .
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس عسفان کے مقام پر موجود تھے، مشرکین ہمارے سامنے آئے، ان کے امیر خالد بن ولید تھے، وہ مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، ان مشرکین نے کہا: یہ اس وقت ایسی حالت میں ہیں، اگر ہم ان لوگوں پر ان کی غفلت کی حالت میں حملہ کر دیں (تو یہ مناسب ہو گا)، ان لوگوں کی نماز کا وقت ہو گیا ہے جو ان کے نزدیک ان کی اولاد اور ان کی اپنی جانوں سے زیادہ محبوب ہے۔ تو جبرائیل علیہ السلام ظہر اور عصر کے درمیانی وقت میں یہ آیت لے کر حاضر ہوئے: اور جب تم ان کے درمیان موجودہوتوا نہیں نماز پڑھاؤ۔ جب نماز کا وقت ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لوگوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں قائم کر لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو ہم سب بھی رکوع میں چلے گئے، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا، تو ہم سب نے بھی سر اٹھا لیے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت وہ صف سجدے میں چلی گئی جو آپ کے قریب موجود تھی، جبکہ دوسری صف کے لوگ کھڑے رہ کر ان کی حفاظت کرتے رہے، جب ان پہلی صف والوں نے سجدہ کر لیا اور پھر کھڑے ہوئے، تو پیچھے کی صف کے لوگ سجدے میں چلے گئے، پھر پیچھے کی صف والے آگے کی صف والوں کی جگہ آ گئے اور آگے والے پیچھے والوں کی جگہ چلے گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو ان کے ساتھ سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا، تو سب لوگوں نے سر اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس صف نے سجدہ کیا جو آپ کے قریب موجود تھی، دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ بیٹھ گئے، تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں سمیت سلام پھیرا۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دو مرتبہ نماز پڑھائی، ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنو سلیم کے علاقے میں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب العيدين/حدیث: 1777]
ترقیم العلمیہ: 1753
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1256، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1548، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1236، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16847»

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن الصامت الزرقي، أبو عياشصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← زيد بن الصامت الزرقي
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← سفيان الثوري
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن منصور الرمادي، أبو بكر
Newأحمد بن منصور الرمادي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن أبي الربيع الجرجاني، أبو علي
Newالحسن بن أبي الربيع الجرجاني ← أحمد بن منصور الرمادي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسين بن إسماعيل المحاملي، أبو عبد الله
Newالحسين بن إسماعيل المحاملي ← الحسن بن أبي الربيع الجرجاني
ثقة