سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب الشهادة على رؤية الهلال
باب چاند دیکھنے کی گواہی
ترقیم العلمیہ : 2166 ترقیم الرسالہ : -- 2192
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ قَالَ:" عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ، وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا" . فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، وَقَالَ: مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ خَلْفَهُ، قُلْتُ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثُمَّ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ جُمَحٍ، كَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ.
حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں: مکہ کے گورنر نے یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی: ”ہم (چاند دیکھ کر قربانی کریں) یعنی عیدالاضحی منائیں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دو عادل لوگ اس کی گواہی دے دیں، تو دونوں کی گواہی کی بنیاد پر قربانی کر لیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا: وہ گورنر کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ حارث بن حاطب تھے، جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔ اس گورنر نے یہ بات بھی کہی کہ تمہارے درمیان وہ شخص موجود ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے (احکامات) میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے، پھر اس گورنر نے وہاں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ صاحب کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے (یعنی ہم دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر چاند نظر آ جانے کا فیصلہ کر دیں)۔ ابوبکر نیشاپوری بیان کرتے ہیں: میں نے ابراہیم حربی سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بیان کیا: سعید بن سلیمان نے ہمیں یہ روایت سنائی ہے، اس کے بعد ابراہیم نے یہ بات بیان کی: وہ صاحب حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن خبیب بن وہب بن حذیفہ بن جمعہ تھے، جنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2192]
ترقیم العلمیہ: 2166
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 270، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2191، 2192، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13883»
الرواة الحديث:
الحسين بن الحارث الجدلي ← الحارث بن حاطب الجمحي