سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ
باب چاند دیکھنے کی گواہی
ترقیم العلمیہ : 2165 ترقیم الرسالہ : -- 2191
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، ثنا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ الْحَارِثِ الْجَدَلِيُّ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ خَطَبَنَا فَنَشَدَ النَّاسَ، فَقَالَ: مَنْ رَأَى الْهِلالَ لِيَوْمِ كَذَا وَكَذَا، ثُمَّ قَالَ:" عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ، فَإِنْ لَمْ نَرَهُ وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا" . قَالَ: فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْحَارِثِ: مَنْ أَمِيرُ مَكَّةَ؟ قَالَ: لا أَدْرِي، ثُمَّ لَقِيَنِي بَعْدُ، فَقَالَ: هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ. هَذَا إِسْنَادٌ مُتَّصِلٌ صَحِيحٌ.
حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں: مکہ کے گورنر نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو یہ قسم دی اور دریافت کیا: کس شخص نے ”فلاں پہلی“ کا چاند دیکھا تھا، پھر اس نے بتایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (ہدایت کی تھی کہ ہم عیدالاضحی کے دن قربانی کریں) اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دو عادل گواہ اس بات کی گواہی دیں، تو ہم ان دونوں کی گواہی پر قربانی (یعنی عیدالاضحی) کر لیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا کہ وہ گورنر کون شخص تھا، تو انہوں نے جواب دیا: مجھے معلوم نہیں، اس کے بعد میری ملاقات ہوئی، تو انہوں نے بتایا: وہ صاحب حارث بن حاطب تھے، جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے، اس کی سند متصل ہے اور یہ روایت مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2191]
ترقیم العلمیہ: 2165
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 270، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2191، 2192، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13883»
«قال الدارقطني: إسناد متصل صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 358)»
«قال الدارقطني: إسناد متصل صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 358)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 2166 ترقیم الرسالہ : -- 2192
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا إبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا عَبَّادٌ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ جَدِيلَةَ قَيْسٍ ، أَنَّ أَمِيرَ مَكَّةَ قَالَ:" عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَنْسُكَ لِلرُّؤْيَةِ فَإِنْ لَمْ نَرَهُ، وَشَهِدَ شَاهِدَا عَدْلٍ نَسَكْنَا بِشَهَادَتِهِمَا" . فَسَأَلْتُ الْحُسَيْنَ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبٍ أَخُو مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ، وَقَالَ: مَنْ هُوَ أَعْلَمُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَأَشَارَ إِلَى رَجُلٍ خَلْفَهُ، قُلْتُ: مَنْ هُوَ؟ قَالَ: ابْنُ عُمَرَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: بِذَلِكَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ: سَأَلْتُ إِبْرَاهِيمَ الْحَرْبِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا بِهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثُمَّ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ هُوَ الْحَارِثُ بْنُ حَاطِبِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مَعْمَرِ بْنِ خُبَيْبِ بْنِ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ بْنِ جُمَحٍ، كَانَ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْحَبَشَةِ.
حسین بن حارث جدلی بیان کرتے ہیں: مکہ کے گورنر نے یہ بات بتائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت کی تھی: ”ہم (چاند دیکھ کر قربانی کریں) یعنی عیدالاضحی منائیں اور اگر ہم خود چاند نہ دیکھیں اور دو عادل لوگ اس کی گواہی دے دیں، تو دونوں کی گواہی کی بنیاد پر قربانی کر لیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے حسین بن حارث سے دریافت کیا: وہ گورنر کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ حارث بن حاطب تھے، جو محمد بن حاطب کے بھائی تھے۔ اس گورنر نے یہ بات بھی کہی کہ تمہارے درمیان وہ شخص موجود ہے، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے (احکامات) میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہے، پھر اس گورنر نے وہاں موجود ایک شخص کی طرف اشارہ کیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ صاحب کون تھے؟ تو انہوں نے جواب دیا: وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بات بیان کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسی بات کا حکم دیا ہے (یعنی ہم دو گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر چاند نظر آ جانے کا فیصلہ کر دیں)۔ ابوبکر نیشاپوری بیان کرتے ہیں: میں نے ابراہیم حربی سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا، انہوں نے بیان کیا: سعید بن سلیمان نے ہمیں یہ روایت سنائی ہے، اس کے بعد ابراہیم نے یہ بات بیان کی: وہ صاحب حارث بن حاطب بن حارث بن معمر بن خبیب بن وہب بن حذیفہ بن جمعہ تھے، جنہیں حبشہ کی طرف ہجرت کرنے کا شرف حاصل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2192]
ترقیم العلمیہ: 2166
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 270، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2338، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8282، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2191، 2192، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13883»
ترقیم العلمیہ : 2167 ترقیم الرسالہ : -- 2193
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَبُو الأَزْهَرِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا الْحَجَّاجُ ، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: إِنَّا صَحِبْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَعَلَّمْنَا مِنْهُمْ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاثِينَ، فَإِنْ شَهِدَ ذَوَا عَدْلٍ فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا وَأَنْسِكُوا" .
عبدالرحمن بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی صحبت میں رہنے کا شرف حاصل ہے، ہم نے ان سے علم حاصل کیا ہے، انہوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اسے (پہلی کے چاند کو) دیکھ کر روزے رکھنا شروع کر دو اور اسے دیکھ کر ہی روزے رکھنا بند کر دو اور اگر بادل چھائے ہوئے ہوں، تو تیس کی تعداد پوری کر لو، اگر دو عادل لوگ گواہی دیں، تو (ان کی گواہی کی بنیاد پر) روزے رکھنا شروع کر دو، عیدالفطر کرو یا قربانی کرو (یعنی عیدالاضحی مناؤ)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2193]
ترقیم العلمیہ: 2167
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2118، 2129، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2437، 2448، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2169، 2170، 2171، 2193، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19127، 19197، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2856، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 988، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7337، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9113، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 2546، وأخرجه الطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 3770»
ترقیم العلمیہ : 2168 ترقیم الرسالہ : -- 2194
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، ثنا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ صَائِمًا لِتَمَامِ الثَّلاثِينَ مِنْ رَمَضَانَ، فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَإِنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ، فَأَمَرَهُمْ فَأَفْطَرُوا" . هَذَا صَحِيحٌ.
ربعی ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا اور یہ رمضان کا تیسواں دن تھا، دو دیہاتی آئے اور ان دونوں نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور انہوں نے یہ بتایا: انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ عیدالفطر منائیں۔ یہ حدیث مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2194]
ترقیم العلمیہ: 2168
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 435، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2339، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8283، 8284، 8285، 8295، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2194، 2202، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 19126، 23538، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 662»
«قال الدارقطني: هذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2194)»
«قال الدارقطني: هذا صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2194)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2169 ترقیم الرسالہ : -- 2195
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ،" أَنَّ عُمَرَ أَجَازَ شَهَادَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ فِي رُؤْيَةِ الْهِلالِ فِي فِطْرٍ أَوْ أَضْحًى" . كَذَا رَوَاهُ عَبْدُ الأَعْلَى، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَعَبْدُ الأَعْلَى ضَعِيفٌ، وَابْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ، وَخَالَفَهُ أَبُو وَائِلٍ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ، فَرَوَاهُ عَنْ عُمَرَ، أنَّهُ قَالَ:" لا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ"، حَدَّثَ بِهِ الأَعْمَشُ، وَمَنْصُورٌ عَنْهُ.
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی کا چاند دیکھنے کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی گواہی کو قبول کیا تھا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی نے ابن ابولیلیٰ کے حوالے سے اسی طرح نقل کیا ہے، لیکن عبدالاعلیٰ نامی راوی ضعیف ہے، اسی طرح ابن ابولیلیٰ نامی راوی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے۔ ابووائل، شقیق بن سلمہ نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”تم لوگ روزے رکھنا اس وقت تک بند نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں (کہ انہوں نے چاند دیکھا ہے)۔“ اس روایت کو اعمش نے اور ان کے حوالے سے منصور نے روایت کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2195]
ترقیم العلمیہ: 2169
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8291، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2195، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7343، 15455، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9558»
«قال الدارقطني: كذا روى عبد الأعلى عن ابن أبي ليلى وعبد الأعلى ضعيف وابن أبي ليلى لم يدرك عمر وخالفه أبو وائل شقيق بن سلمة فرواه عن عمر أنه قال لا تفطروا حتى يشهد شاهدان حدث به الأعمش ومنصور عنه، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2195)»
«قال الدارقطني: كذا روى عبد الأعلى عن ابن أبي ليلى وعبد الأعلى ضعيف وابن أبي ليلى لم يدرك عمر وخالفه أبو وائل شقيق بن سلمة فرواه عن عمر أنه قال لا تفطروا حتى يشهد شاهدان حدث به الأعمش ومنصور عنه، سنن الدارقطني: (3 / 120) برقم: (2195)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2170 ترقیم الرسالہ : -- 2196
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، وَسَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالا: نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ، قَالَ فِي كِتَابِهِ:" إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ" . رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنِ الأَعْمَشِ، فَقَالَ" إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ". هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى. وَقَدْ تَابَعَ الأَعْمَشُ، عَنْ مَنْصُورٍ.
شقیق بن سلمہ بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم اس وقت خانقین میں موجود تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خط میں یہ فرمایا تھا: ”چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھو، تو عیدالفطر اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”جب تم دن کے ابتدائی حصے میں پہلی کا چاند دیکھ لو، تو عید اس وقت تک نہ کرو، جب تک دو آدمی گواہی نہ دیں کہ انہوں نے گزشتہ رات چاند دیکھ لیا تھا۔“ یہ روایت ابن ابولیلیٰ کی روایت کے مقابلے میں زیادہ مستند ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2196]
ترقیم العلمیہ: 2170
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 2171 ترقیم الرسالہ : -- 2197
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ ، قَالا: ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالُوا: ثنا رَوْحٌ، قَالا: نا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: أَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بِخَانِقِينَ:" إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ شَاهِدَانِ أَنَّهُمَا رَأَيَاهُ بِالأَمْسِ" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس (خانقین کے مقام پر) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا (جس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لو، تو اس وقت تک عید نہ کرو، جب تک دو آدمی اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات اس چاند کو دیکھ چکے ہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2197]
ترقیم العلمیہ: 2171
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 2172 ترقیم الرسالہ : -- 2198
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، ثنا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ:" كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَأَتَاهُ رَاكِبٌ فَزَعَمَ أَنَّهُ رَأَى الْهِلالَ، فَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا" . قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: قُلْتُ لأَبِي نُعَيْمٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ قَالَ: لا أَدْرِي، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: سَمِعَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى مِنْ عُمَرَ؟ فَلَمْ يُثْبِتْ ذَلِكَ، عَبْدُ الأَعْلَى هُوَ ابْنُ عَامِرٍ الثَّعْلَبِيُّ غَيْرُهُ أَثْبَتُ مِنْهُ، وَحَدِيثُ أَبِي وَائِلٍ أَصَحُّ إِسْنَادًا عَنْ عُمَرَ مِنْهُ، رَوَاهُ الأَعْمَشُ، وَمَنْصُورٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ.
ابن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا، آپ کے پاس ایک سوار آیا اور اس نے بتایا: اس نے پہلی کا چاند دیکھ لیا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عیدالفطر کریں۔ محمد بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے ابونعیم سے دریافت کیا: کیا ابن ابولیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث کا بیان کیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم۔ محمد بن علی بیان کرتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین سے دریافت کیا: کیا ابن ابولیلیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث کا سماع کیا ہے، تو انہوں نے اسے درست قرار نہیں دیا۔ عبدالاعلیٰ نامی راوی عبدالاعلیٰ بن ثعلبی ہیں، جو مستند نہیں ہیں۔ ابووائل کی روایت سند کے اعتبار سے زیادہ مستند ہے، جسے اعمش اور منصور نے ابووائل کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2198]
ترقیم العلمیہ: 2172
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال الزیلعی: عبد الأعلى هذا متكلم فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 443)»
«قال الزیلعی: عبد الأعلى هذا متكلم فيه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 443)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2173 ترقیم الرسالہ : -- 2199
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ:" جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ لأَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً" . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ، وَخَالَفَهُ الإِمَامُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ.
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، تو ہم اس وقت خانقین کے مقام پر موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لو، تو اس وقت تک عید نہ کرو، جب تک دو عادل آدمی اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں۔“ ابوبکر نے یہ بات بیان کی ہے: اگر مومل نامی راوی کو یہ روایت غریب ہے، کیونکہ امام عبدالرحمن مہدی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2199]
ترقیم العلمیہ: 2173
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم العلمیہ : 2174 ترقیم الرسالہ : -- 2200
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ:" جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ: إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَكْبَرُ مِنْ بَعْضٍ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ نَهَارًا فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى تُمْسُوا، إِلا أَنْ يَشْهَدَ رَجُلانِ مُسْلِمَانِ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً" .
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، ہم لوگ اس وقت خانقین میں موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے وقت چاند دیکھ لو، تو شام ہونے تک افطاری کرو، جب تک دو مسلمان اس بات کی گواہی نہ دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں (تو تم روزہ توڑ کر عیدالفطر مناؤ)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2200]
ترقیم العلمیہ: 2174
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8080، 8081، 8082، 8287، 8288، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2196، 2197، 2199، 2200، 2201، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 7331، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9553، 9566»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
«قال ابن حجر: بإسناد صحيح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 403)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح