سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب الشهادة على رؤية الهلال
باب چاند دیکھنے کی گواہی
ترقیم العلمیہ : 2181 ترقیم الرسالہ : -- 2207
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ فِي الَّذِي يَرَى هِلالَ رَمَضَانَ وَحْدَهُ:" أَنَّهُ يَصُومُ لأَنَّهُ لا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُفْطِرَ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَمَنْ رَأَى هِلالَ شَوَّالٍ وَحْدَهُ فَلا يُفْطِرُ، لأَنَّ النَّاسَ يَتَّهِمُونَ عَلَى أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُمْ مَنْ لَيْسَ مَأْمُونًا، ثُمَّ يَقُولُ أُولَئِكَ إِذَا ظَهَرَ عَلَيْهِمْ: قَدْ رَأَيْنَا الْهِلالَ" .
امام مالک بیان کرتے ہیں: ”جو شخص اکیلا رمضان کا چاند دیکھ لے، تو اسے روزہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اب اس کے لیے روزہ نہ رکھنا ٹھیک نہیں، کیونکہ وہ یہ بات جانتا ہے، یہ دن رمضان کا حصہ ہے، جو شخص اکیلا شوال کا چاند دیکھ لے، وہ روزہ نہ چھوڑے، کیونکہ لوگ اس بارے میں اس پر الزام لگائیں گے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا، کیونکہ اس میں سے بعض لوگ وہ بھی ہوتے ہیں، جو مامون نہیں ہوتے۔ پھر وہ یہ بات اس وقت بیان کرے، جب چاند لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے اور وہ یہ کہیں: ہم نے چاند دیکھ لیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2207]
ترقیم العلمیہ: 2181
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2207»
Sunan al-Daraqutni Hadith 2207 in Urdu