سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
24. باب كفارة من أتى أهله فى رمضان
باب: رمضان میں بیوی سے جماع کرنے والے کا کفارہ
ترقیم العلمیہ : 2361 ترقیم الرسالہ : -- 2395
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعُمَرُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالا: ثنا الْمُنْذِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنِي أبِي ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلا أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، فَقَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟"، قَالَ: أَتَيْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، قَالَ:" هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"، قَالَ: لا أُطِيقُ الصِّيَامَ، قَالَ:" فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ مَدًّا"، قَالَ: مَا أَجِدُ، فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسَةَ عَشَرَ صَاعًا، قَالَ:" أَطْعِمْهُ سِتِّينَ مِسْكِينًا"، قَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا بِالْمَدِينَةِ أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا، قَالَ:" فَانْطَلِقْ فَكُلْهُ أَنْتَ وَعِيَالُكَ، فَقَدْ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْكَ" .
محمد بن حسن اپنے والد (حسن) کے حوالے سے، ان کے والد (امام زین العابدین رحمہ اللہ) کے حوالے، ان کے دادا (امام حسین رضی اللہ عنہ) کے حوالے سے، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کس چیز نے تمہیں ہلاکت کا شکار کیا ہے؟“ اس نے عرض کی: ”میں نے رمضان میں (روزے کے دوران) اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس کوئی غلام یا کنیز ہے؟“ اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مسلسل دو ماہ روزے رکھو۔“ اس نے عرض کی: ”میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، ہر ایک مسکین کو ایک مد دو۔“ اس نے عرض کی: ”میں اس کی گنجائش نہیں رکھتا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے یہ ہدایت کی کہ: ”اسے پندرہ صاع دیے جائیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہ ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو۔“ اس نے عرض کی: ”اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے! پورے شہر میں ہمارے گھر والوں سے زیادہ محتاج اور کوئی نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ، اس سے تم بھی کھاؤ اور تمہارے گھر والے بھی کھائیں، اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے کفارہ ادا کر دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2395]
ترقیم العلمیہ: 2361
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2395»
«قال ابن حجر: الحديث ضعيف لأن في إسناده من لا تعرف عدالته، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 397)»
«قال ابن حجر: الحديث ضعيف لأن في إسناده من لا تعرف عدالته، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 397)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الحسين بن علي السبط ← علي بن أبي طالب الهاشمي