پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
16. باب الحج عن الغير
باب: دوسروں کی طرف سے حج کرنے کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2612 ترقیم الرسالہ : -- 2648
نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مِدْرَارٍ ، نا عَمِّي طَاهِرُ بْنُ مِدْرَارٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلا يَقُولُ: لَبَّيْكَ عَنْ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شُبْرُمَةُ؟"، قَالَ: أَخٌ لِي، قَالَ:" هَلْ حَجَجْتَ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" حُجَّ عَنْ نَفْسِكَ، ثُمَّ احْجُجْ عَنْ شُبْرُمَةَ" . هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالَّذِي قَبْلَهُ وَهْمٌ، يُقَالُ: إِنَّ الْحَسَنَ بْنَ عُمَارَةَ كَانَ يَرْوِيهِ ثُمَّ رَجَعَ عَنْهُ إِلَى الصَّوَابِ، فَحَدَّثَ بِهِ عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ غَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ عَلَى كُلِّ حَالٍ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”میرا بھائی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم حج کر چکے ہو؟“ تو اس نے عرض کی: ”نہیں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی طرف سے حج کرو، اس کے بعد شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول یہ روایت درست ہے، اس سے پہلے منقول روایت وہم ہے، یہ بات بیان کی گئی ہے، حسن بن عمارہ نامی راوی نے اسے نقل کیا ہے اور پھر اس کے بعد اس سے رجوع کر لیا تھا، اور صحیح روایت نقل کرنا شروع کر دی تھی، جو دیگر راویوں کی نقل کردہ روایت کے مطابق ہے، جو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، ویسے یہ شخص ہر حال میں متروک الحدیث ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2648]
ترقیم العلمیہ: 2612
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 548، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 3039، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3988،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1811، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2903، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2642، 2643، 2644، 2645، 2646، 2647، 2648، 2649، 2650، 2651، 2652، 2653، 2654، 2657، 2658، 2659، 2660، 2661، 2662، 2663، 2664، 2665»
«قال البيهقي: هذا ضعيف فيه الحسن بن عمارة وهو متروك، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (1 / 17)»
«قال البيهقي: هذا ضعيف فيه الحسن بن عمارة وهو متروك، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (1 / 17)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2648 in Urdu
طاوس بن كيسان اليماني ← عبد الله بن العباس القرشي