یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2923 ترقیم الرسالہ : -- 2959
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَابْنُ الْعَلاءِ ، قَالُوا: نَا أَبُو الأَشْعَثِ ، نَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ فُرَافِصَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الأَوْصَابِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، وَالْمِنْحَةُ أَوِ الْمَنِيحَةُ مُؤَدَّاةٌ، فَقَالَ رَجُلٌ: فَعُهِدَ رَسُولُ اللَّهِ؟، قَالَ: عَهْدُ اللَّهِ أَحَقُّ مَا أَدَّى" .
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”عارضی طور پر لی ہوئی چیز واپس کی جائے گی اور عطیے کے طور پر (عارضی استعمال کے لیے) ملنے والی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو ایک شخص نے کہا: ”کیا یہ اللہ کے رسول کا فیصلہ ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فیصلہ ہے، جو اس بات کا حق دار ہے کہ اسے پورا کیا جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2959]
ترقیم العلمیہ: 2923
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1021، 1099، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5094،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2870، 3565، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 670، 1265، 2120، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2007، 2295، 2398، 2405، 2713، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2959، 2960، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22725»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2959 in Urdu
لقمان بن عامر الأوصابي ← صدي بن عجلان الباهلي