سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2925 ترقیم الرسالہ : -- 2961
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لا ضَمَانَ عَلَى مُؤْتَمَنٍ" .
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جس شخص کے پاس امانت رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان لازم نہیں ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2961]
ترقیم العلمیہ: 2925
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2401، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12823، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/1»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 252)»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 252)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
ترقیم العلمیہ : 2926 ترقیم الرسالہ : -- 2961M1
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ جَعْفَرٍ الْكَوْكَبِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ حَسَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ" ، عَمْرٌو، وَعُبَيْدَةُ، ضَعِيفَانِ، وَإِنَّمَا يُرْوَى عَنْ شُرَيْحٍ الْقَاضِي، غَيْرُ مَرْفُوعٍ.
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عارضی طور پر استعمال کے لیے لینے والا شخص تاوان ادا کرنے کا پابند نہیں ہو گا، البتہ اگر کوئی شخص دھوکے کے ساتھ اس کا استعمال کرے (تو اس پر تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)، اسی طرح جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر کوئی چیز رکھوائی گئی ہو، وہ بھی تاوان ادا کرنے کا پابند ہو گا، لیکن اگر وہ دھوکہ دیتا ہے (تو اس پر بھی تاوان کی ادائیگی لازم ہو گی)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2961M1]
ترقیم العلمیہ: 2926
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11605، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/2»
«قال ابن حجر: وفي إسناده ضعيفان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 210)»
«قال ابن حجر: وفي إسناده ضعيفان، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 210)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
ترقیم العلمیہ : 2927 ترقیم الرسالہ : -- 2961M2
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، نَا ابْنُ جَابِرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ تَفْسِيرِ:" الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ، قَالَ: أَسْلَمَ قَوْمٌ وَفِي أَيْدِيهِمْ عَوَارِي مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالُوا: قَدْ أَحْرَزَ لَنَا الإِسْلامُ مَا بِأَيْدِينَا مِنْ عَوَارِي الْمُشْرِكِينَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الإِسْلامُ لا يُحْرِزُ لَكُمْ مَا لَيْسَ لَكُمُ، الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ"، فَأَدَّى الْقَوْمُ مَا بِأَيْدِيهِمْ مِنْ تِلْكَ الْعَوَارِي ، هَذَا مُرْسَلٌ وَلا تَقُومُ بِهِ حَجَّةٌ.
عطاء بن ابی رباح نے روایت کے یہ الفاظ (عارضی طور پر لی گئی چیز واپس کی جائے گی) کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے کہ ایک قبیلے کے لوگوں نے اسلام قبول کیا، ان کے پاس کچھ ایسی چیزیں تھیں، جو مشرکین سے انہوں نے عارضی استعمال کے لیے لی تھیں، ان لوگوں نے یہ کہا: اسلام قبول کرنے کی وجہ سے مشرکین کی یہ اشیاء، جو ہمارے پاس ہیں یا ہمارے پاس آ گئی ہیں، جب اس بات کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اسلام تمہیں ایسی کسی چیز پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، جو تمہاری ملکیت نہ ہو، عارضی استعمال کے لیے لی گئی چیز واپس کی جائے گی۔“ تو پھر ان لوگوں نے (مشرکین کی) وہ چیزیں انہیں واپس کر دیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2961M2]
ترقیم العلمیہ: 2927
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11594، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/3»
«قال الدارقطني: هذا مرسل ولا تقوم به حجة، سنن الدارقطني: (3 / 456) برقم: (2961 / 3)»
«قال الدارقطني: هذا مرسل ولا تقوم به حجة، سنن الدارقطني: (3 / 456) برقم: (2961 / 3)»
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
ترقیم العلمیہ : 2928 ترقیم الرسالہ : -- 2961M3
ثنا ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا رَوْحٌ، نَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ شُرَيْحًا، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَعِيرِ غَيْرِ الْمُغِلِّ، وَلا عَلَى الْمُسْتَوْدِعِ غَيْرِ الْمُغِلِّ ضَمَانٌ" .
قاضی شریح بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے عاریت کے طور پر چیز لی ہو اور جس شخص کے پاس ودیعت کے طور پر چیز رکھوائی گئی ہو، اس پر تاوان کی ادائیگی لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر وہ دھوکے دینے والے ہوں (تو حکم مختلف ہو گا)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2961M3]
ترقیم العلمیہ: 2928
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11604، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/4، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14782، 14783، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 20925، 20936»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعيفان، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 252)»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعيفان، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 252)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2929 ترقیم الرسالہ : -- 2961M4
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَابْنُ مَخْلَدٍ ، وَجَمَاعَةٌ، قَالُوا: نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا رِبْعِيُّ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مثل الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟، قَالَ: لا، قَالَ: فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟، قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَلا إِذَنْ، وَقَالَ الْمَحَامِلِيُّ: أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ" .
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے اور بولے: ”آپ اس بات پر گواہ بن جائیں کہ میں نے اپنے مال میں سے اتنا مال نعمان کو دے دیا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو عطیے کے طور پر اتنی ہی ادائیگی کی ہے، جتنی تم نے نعمان کو دی ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم میری بجائے کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ وہ سب (یعنی تمہاری اولاد) تمہارے ساتھ ایک جیسا اچھا سلوک کرے؟“ تو انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تم ایسا نہ کرو۔“ محامل کہتے ہیں: (روایت میں یہ الفاظ ہیں) ”کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2961M4]
ترقیم العلمیہ: 2929
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1623، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1372، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5097،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3676، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1367، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2375، 2376، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/5، 2962، 2963، 2964، 2965، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18645»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 29614 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي